1000302873

امریکی ریاست پنسلوانیا میں تقریباً 50 سال قبل قتل ہونے والی دو نوجوان لڑکیوں کے قتل کا معمہ جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے حل کرلیا گیا، پولیس نے دونوں قتل میں ملوث سیریل کلر کی شناخت بھی کرلی۔

پنسلوانیا اسٹیٹ پولیس کے مطابق دونوں لڑکیوں کو قتل کرنے والا شخص جیمز رچرڈ کلارک تھا، جس کی موت 2023 میں 66 سال کی عمر میں طبعی وجوہات کے باعث ہوچکی ہے۔پولیس کے مطابق 21 سالہ سوزن رش 1976 میں کی ایک شام اپنے خاندان کے ساتھ چرچ میں عشائیے کے لیے جانے والی تھی، تاہم وہ وہاں نہ پہنچی۔ اگلی صبح اس کے بھائی کو اس کی گاڑی ایک سڑک کے کنارے کھڑی ملی، جس کی ڈگی سے سوزن کی لاش برآمد ہوئی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ اسے جنسی زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا۔اس واقعے کے تقریباً چھ ماہ بعد، مئی 1977 میں 18 سالہ برینڈا رٹر کو بھی اسی انداز میں قتل کردیا گیا۔ وہ ایک طوفانی رات اپنے بوائے فرینڈ کے گھر سے واپس آرہی تھی، تاہم گھر نہ پہنچی۔ اگلے روز اس کی گاڑی ایک دیہی سڑک کے کنارے سے ملی جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے تلاش کے دوران اس کی لاش قریبی پہاڑی سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق اسے بھی جنسی زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا۔حکام نے دونوں قتل کے درمیان مماثلت کی بنیاد پر تعلق تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم کئی دہائیوں تک تفتیش کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔پولیس کے مطابق 2008 میں برینڈا رٹر کے قتل کے مقام سے حاصل ہونے والے ڈی این اے کو ایف بی آئی کے ڈی این اے ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا، تاہم کسی مجرم سے اس کا میچ نہیں مل سکا۔2025 میں تفتیش کاروں نے دونوں مقدمات کے ڈی این اے شواہد جدید تجزیے کے لیے مختلف بائیوٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھجوائے۔ سائبرجینیٹکس کمپنی نے دونوں نمونوں کا تجزیہ کرکے انتہائی مضبوط شواہد فراہم کیے کہ دونوں میں ایک ہی شخص کا ڈی این اے موجود تھا۔پولیس کے مطابق جدید ڈی این اے تجزیے سے دونوں قتل آپس میں منسلک ہوئے اور تفتیش کار جیمز رچرڈ کلارک تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ قتل کے وقت کلارک کی عمر بالترتیب 19 اور 20 سال تھی اور وہ واشنگٹن کاؤنٹی کے علاقے میں رہائش پذیر تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کلارک کی ماضی کی زندگی اور ممکنہ دیگر جرائم کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کو شبہ ہے کہ وہ ان دو قتل کے علاوہ مزید وارداتوں میں بھی ملوث ہوسکتا ہے۔پولیس افسر جیمز پیٹروسکی کے مطابق تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ سیریل کلر کے دیگر ممکنہ متاثرین بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے کلارک کے ماضی کا ریکارڈ کھنگالا جا رہا ہے۔حکام نے دونوں مقتول لڑکیوں کے اہل خانہ کو پیش رفت سے آگاہ کردیا ہے، جنہوں نے نجی زندگی کے احترام کی درخواست کی ہے۔ پولیس کے مطابق تقریباً پانچ دہائیوں بعد اس کیس کا حل ہونا متاثرہ خاندانوں کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے

متعلقہ ٹیگز:#World