Gemini Generated Image tbk1txtbk1txtbk1

دنیا ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ طاقتور ملکوں کے حکمران، مذہبی و سیاسی نعروں کے علمبردار اور عوامی مقبولیت کے سہارے اقتدار کی سیاست کرنے والے رہنما دنیا کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟

جنگیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں، معیشتیں دباؤ میں ہیں، معاشرے تقسیم ہو رہے ہیں اور عام انسان کی زندگی سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔

ہم نے ایک زمانے میں فلم دیکھی تھی جس کا نام تھا ’’تھری ایڈیٹس‘‘۔ آج سیاسی منظرنامے کو دیکھ کر ذہن میں ایک تلخ استعارہ ابھرتا ہے: تین ایڈیٹس!بنیامین نیتن یاہو، ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان نیازی۔

یہ تینوں مختلف ملکوں، مختلف حالات اور مختلف سیاسی نظاموں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ان کے گرد گھومتی سیاست ہمیں ایک اہم سوال ضرور دیتی ہے: کیا ہماری دنیا میں اداروں، پالیسیوں اور اصولوں سے زیادہ اہمیت شخصیات کو دی جانے لگی ہے؟

نیتن یاہو: طاقت، جنگ اور انسانیت کا امتحان

بنیامین نیتن یاہو کی سیاست نے مشرق وسطیٰ کو ایک طویل اور پیچیدہ بحران سے دوچار کیا ہے۔ غزہ کی تباہی، فلسطینی عوام کی مشکلات اور خطے میں پھیلتی کشیدگی نے عالمی ضمیر کے سامنے کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔جنگ صرف سرحدوں کو نہیں جلاتی، نسلوں کے مستقبل کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اقتدار کی سیاست میں اگر انسانی جان کی قیمت کم ہو جائے تو پھر کامیابی اور شکست کے پیمانے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔آج اسرائیل میں بھی قیادت اور مستقبل کے حوالے سے سیاسی کشمکش جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ: دنیا کو اپنی مرضی سے چلانے کا تصور

ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کا بنیادی انداز غیر معمولی بیانات، دباؤ کی حکمت عملی اور امریکہ کے مفادات کو مقدم رکھنے کے دعوے سے پہچانا جاتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے صدر کے فیصلے صرف امریکہ تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے اثرات مشرق وسطیٰ، یورپ، ایشیا اور عالمی معیشت تک پہنچتے ہیں۔ نومبر 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی جماعت کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے یہ حقیقت ایک بار پھر سامنے آئی کہ کسی بھی طاقتور حکمران کے سامنے جمہوری احتساب کا راستہ بند نہیں ہوتا۔

عمران خان: مقبولیت، مزاحمت اور پاکستان کا سیاسی بحران

عمران خان پاکستان کی سیاست کا ایک غیر معمولی اور انتہائی بااثر کردار ہیں۔ ان کی مقبولیت، ان کے حامیوں کا جذبہ اور ان کے مخالفین کے ساتھ جاری سیاسی کشمکش نے ملک کو شدید سیاسی تقسیم سے دوچار کیا ہے۔لیکن پاکستان کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ عمران خان واپس اقتدار میں آتے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاست شخصیات کی کشمکش سے نکل کر آئین، پارلیمان، قانون کی حکمرانی اور مضبوط جمہوری اداروں کی طرف بڑھ سکے گی؟

کسی بھی رہنما کی مقبولیت اسے احتساب سے بالاتر نہیں کرتی اور کسی بھی سیاسی مخالفت کو قانون اور انصاف کی حدود سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔

تین شخصیات، مگر اصل مسئلہ ایک!

ان تینوں کے سیاسی حالات ایک جیسے نہیں، نہ ہی ان کے اقدامات اور اثرات کو ایک ہی ترازو میں تولا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کے حوالے سے ایک مشترکہ سوال ضرور اٹھتا ہے: کیا دنیا ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اصولوں سے زیادہ شخصیت، مکالمے سے زیادہ تصادم اور عوامی مفاد سے زیادہ سیاسی بقا اہم ہو گئی ہے؟

اگر ایسا ہے تو پھر مسئلہ صرف تین رہنماؤں کا نہیں، پوری عالمی سیاسی سوچ کا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

اب دنیا کو مزید طاقتور نعروں کی نہیں، مضبوط اداروں کی ضرورت ہے۔

- ایسی قیادت جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دے۔ - ایسی سیاست جو مخالف کو دشمن نہ سمجھے۔ - ایسے ادارے جو حکمرانوں کے تابع نہیں بلکہ قانون کے پابند ہوں۔ - ایسا نظام جہاں عام شہری کی جان، عزت اور معاشی تحفظ سب سے اہم ہو۔ - ایسی جمہوریت جہاں اقتدار عوام کی امانت ہو، کسی فرد کی جاگیر نہ ہو۔

آخری سوال: تماشائی کون ہے اور قیمت کون ادا کر رہا ہے؟

نیتن یاہو ہوں، ٹرمپ ہوں یا عمران خان، تاریخ کسی رہنما کو صرف اس کے نعروں سے نہیں پرکھتی۔ تاریخ یہ بھی دیکھتی ہے کہ اس کے دور میں عام انسان کی زندگی کتنی محفوظ تھی، ادارے کتنے مضبوط ہوئے اور آنے والی نسلوں کو کیا ورثہ ملا۔ دنیا کے حکمران اپنی سیاست بچانے میں مصروف ہیں، لیکن عام آدمی اپنے بچوں کا مستقبل، دو وقت کی روٹی، امن اور عزت کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تین ایڈیٹس کا قصہ اپنی جگہ، مگر اب اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ اگلا حکمران کون ہوگا، سوال یہ ہے کہ اگلی دنیا کیسی ہوگی؟

کیونکہ اگر سیاست دان اپنی انا کی جنگ لڑتے رہے تو تاریخ کے صفحات پر نام ان کے لکھے جائیں گے، لیکن اس جنگ کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرے گا۔

متعلقہ ٹیگز:#Articles