1000302509

تحریر :رانا سہیل

مادیت، تنہائی اور جدید دور کے کرب کا المیہ ایک ایسا ناسور ہے، جو ہماری روح ہمارے رشتوں اور ہمارے پورے معاشرتی تانے بانے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔۔ جب ہم اپنے اردگرد پھیلی ہوئی بےحسی، روایتی منافقت اور اس گہرے سناٹے کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ادراک ہوتا ہے کہ یہ سناٹا ہر گھر، ہر محلے اور ہر انسان کے اندر ڈیرے ڈال چکا ہے۔۔ آج کا انسان مادی ترقی کی اس اندھی دوڑ میں اسطرح الجھ چکا ہے کہ اس نے اپنی روح کا سودا کر کے ظاہری چمک دمک کو اپنا مقصود حیات بنا لیا ہے۔۔ صبح سے شام تک کی یہ تگ و دو، روٹی روزی کا یہ چکر اور نوکری یا کاروبار کی یہ چکی انسان کو اس قدر تھکا دیتی ہے کہ اسے خود اپنے وجود کا احساس بھی بوجھ لگنے لگتا ہے۔۔ انسان اس دنیا میں اکیلا آیا ہے اور اکیلا ہی رخصت ہو جائیگا، مگر اس سفر کے دوران وہ اپنوں سے بیگانہ ہو جاتا ہے، انسان کے اندر کی یہ ویرانی اس بات کی علامت ہے کہ جہاں کبھی ہنسی قہقہے گونجتے تھے، جہاں محبتوں کے دئیے جلتے تھے وہاں اب صرف ٹھنڈی ہواؤں کا راج ہے اور یادوں کے ملبے کے سوا کچھ باقی نہیں۔۔ اس دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ رشتوں میں اب خلوص باقی نہیں رہا، بلکہ ہر تعلق کی بنیاد مفاد، غرض اور ذاتی نفع و نقصان پر رکھی گئی ہے۔۔ انسان جب کسی محفل میں بیٹھتا ہے چائے کی پیالی پر لب سجاتا ہے یا خوشبوؤں اور ظاہری بناؤ سنگھار کے ذریعے دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت خوش ہے تو اس کے پردے کے پیچھے ایک خوفناک تنہائی اور گھٹن ناچ رہی ہوتی ہے۔۔ ہم سب اس مکروہ ناٹک کا حصہ بن چکے ہیں، جہاں ہر شخص ایکدوسرے کے سامنے جھوٹی مسکراہٹیں سجاتا ہے، مگر اندر ہی اندر وہ سسک رہا ہوتا ہے۔۔ بارش باہر کتنی ہی تیز کیوں نہ برس جائے وہ انسان کے اندر لگی ہوئی اس تپش اور پیاس کو نہیں بجھا سکتی جو مادیت کی آگ نے سلگائی ہے۔۔ ہمارے معاشرے میں روٹی کمانے کی تگ و دو نے ہمیں اس حد تک خود غرض بنا دیا ہے کہ ہم نے اپنے عزیزوں، اپنے دوستوں اور یہاں تک کہ اپنی روح کے سکون کو بھی قربان کر ڈالا ہے، ہم دن بھر محنت کرتے ہیں ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے ہیں اپنی صحت، اپنے جذبے اور اپنے احساسات کو داؤ پر لگا دیتے ہیں، اور جب شام کو گھر لوٹتے ہیں تو ہمارے پاس اپنے آپ سے بات کرنے کا وقت بھی نہیں ہوتا۔۔ انسان جتنا ہجوم کے قریب جاتا ہے اتنا ہی خود سے دور ہوتا چلا جاتا ہے، ہمارے بزرگوں نے جن رشتوں کی بنیاد رکھی تھی، جن اقدار کو خون پسینے سے سینچا تھا، ہم نے اپنی عیاشیوں اور دنیاوی ہوس کی خاطر ان سب کو روند ڈالا ہے، اب عالم یہ ہے کہ انسان کو انسان سے ڈر لگنے لگا ہے، اسے یہ خوف کھائے جاتا ہے کہ اگر اس نے اپنے دل کی سچی کیفیت یا اپنا درد کسی کے سامنے ظاہر کر دیا تو لوگ اسے کمزور سمجھ لیں گے یا اس کا مذاق اڑائیں گے۔۔ اسی لئے وہ اپنے اندر ایک قلعہ بنا کر اس میں قید ہو جاتا ہے جہاں باہر کی کوئی روشنی داخل نہیں ہو سکتی، یہ تنہائی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ہم نے اپنے فیصلوں سے، اپنے رویوں سے اور اپنی بے حسی سے ان لوگوں کو خود سے دور کر دیا ہے جو کبھی ہماری زندگی کا اثاثہ ہوا کرتے تھے۔۔۔ اس حقیقت کا سب سے دلخراش پہلو یہ ہے کہ جب 50 سال کی عمر کو پہنچ کر انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے سوائے پچھتاوے اور تنہائی کے کچھ نظر نہیں آتا، وہ دیکھتا ہے کہ اس نے جو دولت کمائی جو عزت سمیٹی اور جو جائیدادیں بنائیں وہ سب اس کی روح کے سودے کی قیمت تھیں، اور اب جب اسے کسی اپنے کے کندھے کسی سچے ساتھی یا کسی خلوص بھرے دل کی ضرورت ہے تو چاروں طرف صرف خالی پن اور بے جان چیزیں ہی بکھری پڑی ہیں۔۔۔ یہ صورتحال ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ ہم اس ظاہری ناٹک اور مادی دوڑ کو تھوڑی دیر کیلئے روکیں اپنے گریبان میں جھانکیں، اور سوچیں کہ کیا ہم نے جو کچھ پایا ہے وہ واقعی اس سب کچھ کو کھونے کے لائق تھا جو ہم نے راستے میں گنوا دیا ہے۔۔ اگر آج بھی ہم نے اس حقیقت کو نہ سمجھا اور اپنی روح کے اس بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش نہ کی تو آنے والے وقتوں میں یہ خالی پن ہمیں زندہ ہی نگل جائے گا، اور ہماری یہ سجی سجائی دنیا ایک ایسے قبرستان میں بدل جائے گی جہاں جسم تو چل پھر رہے ہوں گے مگر اندر کوئی دھڑکتا ہوا دل باقی نہیں رہے گا۔۔۔

متعلقہ ٹیگز:#Articles