ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے مخلص ثالث کی حیثیت سے ہر ممکن سہولت فراہم کی اور 47 سال سے ایک دوسرے سے بات نہ کرنے والے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا،
خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کا حل ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہناتھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی امن کوششوں کا ثبوت ہیں، پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں اور سہولت کاری جاری رکھے گا، مذاکراتی عمل میں وقت لگ سکتا ہے، اس دوران انتہائی اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ جوہری حملے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر قیاس آرائی یا تبصرہ مناسب نہیں۔ترجمان کے مطابق آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ نے اہم علاقائی اور عالمی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع، اسرائیل فلسطین صورتحال، یمن میں حوثی حملوں اور آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔ وزرائے خارجہ نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی انسداد دہشتگردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کے الزامات بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہیں۔ افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کا خطرہ گمراہ کن پروپیگنڈے سے چھپایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے نتیجے میں 3 ہزار 500 سے زائد جانی نقصانات ہوچکے ہیں، جب کہ صرف 2026 میں 1,400 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ترجمان نے سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ ریجنز کو نشانہ بنانے والے حوثی میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 26 اکتوبر کے حملے سعودی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مقدس مقامات کی حرمت و شہریوں کی سلامتی کو نظرانداز کرنے کو ناقابل قبول قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ جمعے کی شب خلیج فارس کے بین الاقوامی پانیوں میں سفر کرنے والے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایل این جی بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ جہاز پر 25 رکنی عملے میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ حملے سے معمولی آگ لگی تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے اور جہاز بحفاظت قطر واپس پہنچ گیا۔ متعلقہ پاکستانی حکام واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے فریقین سے رابطے میں ہیں