بارود کے دھویں اورخوف کے سائے میں غزہ میں خوشی کا ایک نادر موقع دیکھنے میں آیا، جہاں 250 فلسطینی جوڑوں نے اجتماعی شادی کی تقریب میں نئی زندگی کا آغاز کیا۔
اجتماعی شادی کی اس تقریب کا اہتمام متحدہ عرب امارات کے تعاون سے کیا گیا، جس میں دولہا دلہن اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی اور خوشیوں کے لمحات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹے۔تقریب میں دولہا دلہن اور ان کے اہل خانہ کے چہروں پر مسکراہٹیں نمایاں رہیں، جبکہ مشکل حالات کے باوجود خوشی اور جشن کا ماحول دیکھنے میں آیا۔یہ تقریب 7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور بربادی کے درمیان منعقد ہوئی، جہاں فلسطینی جوڑے طویل عرصے کی مشکلات کے بعد ازدواجی زندگی شروع کرنے کے قابل ہوئے. تقریب میں شریک ایک دولہا محمد الشریف نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ 3 سال کی تکالیف، جنگ اور تباہی کے بعد بالآخر ہمیں خوشی منانے کا موقع ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے میں شادی کرسکتا تھا، لیکن جنگ اور اس کے اثرات نے ہر چیز سے محروم کردیا۔ ایک اور دولہا سعید النجار نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناقابلِ بیان خوشی ہے، جو صرف یہاں موجود جوڑوں کے لیے نہیں بلکہ پورے غزہ کے عوام کے لیے ہے، شدید مشکلات، مسلسل بمباری اور موت کے خطرات کے درمیان اس طرح کی تقریب کا انعقاد ایک بڑی کامیابی ہے۔اجتماعی شادی کی اس تقریب نے غزہ میں امید کی ایک جھلک پیش کی، جہاں برسوں سے جاری جنگ کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی، بے گھری اور انسانی مشکلات نے زندگی کو دشوار بنا رکھا ہے۔یہ تقریب فلسطینی عوام کے عزم اور حوصلے کی بھی عکاس ہے، جو تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے اور مستقبل کے لیے امید برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں