فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس رولز میں ترمیم کرتے ہوئے گھریلو الیکٹریکل سامان کا دائرہ کار وسیع کر دیا، جس کے تحت نئی اشیاء پر ٹیکس سٹیمپ لگانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایئر کنڈیشنر، فریج، فریزر، واشنگ مشین اور ٹیلی ویژن کو نئے قواعد میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ سٹوریج بیٹریوں پر بھی ان قواعد کا اطلاق ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق درآمدی سامان پر بھی ٹیکس سٹیمپ لگانا اور اسے فعال کرنا لازمی ہوگا، ٹیکس سٹیمپ کے بغیر درآمدی اشیاء کی کسٹم کلیئرنس نہیں ہو سکے گی، جبکہ سٹیمپ کی تنصیب اور ایکٹیویشن کلیئرنس سے قبل کرنا ضروری ہوگا۔ایف بی آر کے مطابق ریٹیل اور آٹو کمپنیوں کو سپلائی کی جانے والی اسٹوریج بیٹریاں بھی نئے قواعد کے دائرے میں شامل ہوں گی، تاہم بیٹریوں کے پرزوں پر ان قواعد کا اطلاق نہیں ہوگا، سرکاری ملکیتی اداروں (سٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز) کو بھی نئے رولز میں شامل کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکس سٹیمپ مصنوعات اور ان کی پیکنگ دونوں پر لگایا جائے گا، ایک لائسنس صرف ایک مخصوص پروڈکٹ کے لیے قابل استعمال ہوگا اور لائسنس ہولڈر کسی دوسری پروڈکٹ کی ٹریکنگ نہیں کر سکے گا، جبکہ پہلے سے جاری لائسنس بھی اسی پابندی کے تابع ہوں گے۔ایف بی آر نے لائسنس کے حصول کے لیے صرف کمپنی ہونے کی شرط ختم کر دی ہے، اب کوئی بھی اہل درخواست گزار لائسنس حاصل کر سکے گا، لائسنس ہولڈر کے لیے ٹیکس اسٹیمپ سسٹم کی تنصیب اور مرمت کی ذمہ داری بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ٹریکنگ سسٹم کا تمام ڈیٹا حکومت پاکستان کی ملکیت ہوگا، جبکہ لائسنس کی مدت ختم ہونے پر متعلقہ ڈیٹا اور کوڈز ایف بی آر کے حوالے کرنا ہوں گے۔