جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ کے ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو پر الیکشن کمیشن کا سخت ردعمل سامنے آگیا۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے سابق جج کے مؤقف کو آئینی وقانونی حقائق کےمنافی قراردیتے ہوئے کہا کہ عدالتی ریکارڈ ادھورے تناظراور یکطرفہ تشریحات کے ذریعے پیش کرناغیرمناسب ہے۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات اورپی ٹی آئی کےانتخابی نشان اور مخصوص نشستوں سےمتعلق اپنے فیصلوں کا دفاع بھی کیا ہے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات 2023 سےمتعلق سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ 4 اور 3 کا تھا ۔ ازخود نوٹس اور سپریم کورٹ بار کی درخواستیں خارج ہونے کا مؤقف درست قانونی نتیجہ نہیں تھا، کمیشن عدالتی حکم کے مطابق کارروائی کا پابند تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات208 اور 209 کےتحت ہر سیاسی جماعت کے لیے شفاف انٹرا پارٹی انتخابات لازم ہیں۔ پی ٹی آئی مقررہ مدت میں یہ انتخابات کروانےمیں ناکام رہی اورکمیشن کی جانب سے 3 مواقع بھی دیئے گئےجس کے بعد دفعہ 215(5) کےتحت انتخابی نشان واپس لیا گیا۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا اور نظرثانی درخواست مسترد کر دی۔ مخصوص نشستوں کے معاملے پر بھی سیاسی جماعتوں کے لیے ترجیحی فہرست جمع کرانا ضروری تھا۔ پی ٹی آئی نے ایسی کوئی فہرست جمع نہیں کروائی اس لیے کمیشن نے مخصوص نشستیں اہل جماعتوں کو الاٹ کیں۔ترجمان الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آج بھی کمیشن کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، جسٹس ریٹائرڈ منصورعلی شاہ کا بیان سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں کے منافی ہے