1000302863

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھی نئے انتظامی یونٹس بنائے جانے چاہئیں، صوبوں کی تشکیل سے متعلق یہ تجویز گزشتہ 2 ماہ سے زیرِ بحث ہے۔

ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں انتظامی یونٹس بنائے جاتے ہیں، پاکستان میں بھی اس حوالے سے غور ہونا چاہیے، ماضی میں تمام صوبوں کو ضم کر کے ون یونٹ بنایا گیا تھا، تاہم بعد میں یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ملک کی آبادی میں اضافہ ہوچکا ہے، اس لیے عوام کو سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے، افغانستان میں پہلے 8 سے 10 صوبے تھے، جنہیں تقسیم کر کے 30 سے 32 صوبوں میں تبدیل کردیا گیا. وزیر دفاع نے کہا ہے کہ طاقت کا ارتکاز لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ صوبائی دارالحکومتوں کے اختیارات انتظامی یونٹس کو منتقل ہونے چاہئیں۔ان کا کہنا ہے کہ مرکز سے منتقل کیے جانے والے فنڈز صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں، حالانکہ ان فنڈز کی اصل منزل بلدیاتی ادارے ہیں۔ بلدیاتی ادارے بھی صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سیاست دانوں کو سوچنا چاہیے کہ طاقت عوام کی امانت ہے، لیکن سیاست دانوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ وہ تمام اختیارات خود استعمال کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر 12 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز ہے تو 12 ہی بنا لیے جائیں، تاہم ان کی تشکیل میں زبان، نسل یا سیاسی مفادات کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے

متعلقہ ٹیگز:#Pakistan