ماہور میں دہشت گردوں کی فائرنگ، 3 پولیس اہلکار شہید

Share

لاہور میں دہشت گردوں نے دو مختلف مقامات پر حملہ کرکے پولیس کے 3 اہلکاروں کو شہید اور ایک راہ گیر سمیت 4 کو زخمی کر دیا، دوسرے حملے کے بعد ملزمان سرکاری گاڑی چھین کر فرار ہو گئے۔پولیس پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آ گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے، مرکزی ملزم کا بھائی دو سال پہلے سی ٹی ڈی سے مقابلے میں مارا گیا تھا۔دہشت گردوں نے پہلا حملہ بادامی باغ کے علاقے میں کیا، ملزم ریحان بٹ کے گھر موجودگی کی اطلاع پر سب انسپکٹر عدیل اور ہیڈ کانسٹیبل اسد نےچھاپہ مارا، ملزمان نے پولیس ٹیم کو دیکھتے ہی فائرنگ کردی اور رکشے میں بیٹھ کر فرار ہوگئے ، جس کے نتیجے میں دونوں اہلکار شہید ہو گئے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ بادامی باغ واقعے کی تحقیقات جاری تھیں کہ 3دہشت گردوں نے یتیم خانہ چوک میں کالعدم مذہبی تنظیم کے ہیڈ کوارٹر کے باہر پولیس ٹیم پر فائرنگ کر دی۔فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک حملہ اور شلوار قمیض اور 2 پینٹ شرٹ میں ملبوس سر عام فائرنگ کرتے ہوئے پیٹرول پمپ پر آتے ہیں اور پھر بھاگتے ہوئے ایک سرکاری گاڑی چھین کر فرار ہو جاتے ہیں۔فائرنگ کے واقعے میں حارث سلیم نامی پولیس اہلکار شہید جبکہ اویس ،شفیق اور اعظم زخمی ہوگئے، فائرنگ سے ایک راہگیر بھی زخمی ہوا، ملزمان کی تلاش کیلئے سی سی ڈی ،انویسٹی گیشن اور آپریشنز ونگ کی تمام ٹیمیں متحرک ہوگئیں۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق ملزمان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔ دونوں مقامات پر فائرنگ کرنے والا مرکزی ملزم ریحان بٹ ہے، جس کا بھائی فیضان بٹ سی ٹی ڈی سے مقابلے میں مارا گیا تھا۔ریحان بٹ کے خلاف شہید ایس آئی عدیل نے دسمبر 2024 میں دھمکیاں دینے کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔آئی بجی پنجاب نے ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی

Check Also

دریا سواں میں ڈوبنے والی خاتون کی شناخت ہوگئی

Share راولپنڈی پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دریا سواں میں ڈوب کر جاں بحق …