روس کا جوابی اقدام، جرمن سفارتکار کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک بدر کر دیا

Share

ماسکو نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک جرمن سفارتکار کو ملک بدر کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اقدام جرمنی کی جانب سے گذشتہ ماہ روسی سفارتکار کو جاسوسی کے الزامات پر ملک بدر کیے جانے کے جواب میں کیا گیا ہے۔روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق، جرمن سفارتخانے کے ایک سفارتی اہلکار کو پرسونا نان گراٹا (ناپسندیدہ) قرار دینے کا نوٹ جاری کیا گیا، جسے جرمنی کے اقدام کا ’متناسب اور جوابی ردِعمل‘ قرار دیا گیا ہے. ماسکو نے جرمنی کی جانب سے عائد کردہ جاسوسی کے الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے برلن پر ’جاسوسی کی فضا پیدا کرنے‘ کا الزام بھی عائد کیا۔واضح رہے کہ جرمنی نے جنوری میں روسی سفیر کو طلب کیا تھا اور ایک روسی سفارتکار کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر الزام تھا کہ وہ ایک خاتون کے جاسوسی نیٹ ورک کا نگران تھا، جسے جاسوسی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔روس نے اس وقت بھی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔جرمن وزیر خارجہ یوہان ویڈے فل نے جمعرات کو اس اقدام کو ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔ برونائی کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ ’ہاں ہمارے سفارتکار قانون کی پاسداری کرتے ہیں، وہیں روس سفارتکاری کی آڑ میں کشیدگی اور جاسوسی پر انحصار کرتا ہے۔‘ویڈے فل نے مزید کہا کہ روس کا یہ تازہ غیر دوستانہ اقدام ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ وہ سفارتکاری کے بجائے بلاجواز انتقامی کارروائی کو ترجیح دیتا ہے۔ان کے مطابق، ملک بدر کیے جانے والا جرمن سفارتکار ماسکو میں جرمن سفارتخانے کے ملٹری اتاشی سٹاف کا رکن تھا۔واضح رہے کہ یوکرین جنگ سے قبل ہی مغربی ممالک اور روس کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ چکی تھی، اور گذشتہ ایک دہائی کے دوران مغربی ریاستوں نے درجنوں مبینہ روسی جاسوسوں کو ملک بدر کیا ہے۔ایسے اقدامات کے جواب میں عموماً ماسکو بھی اسی نوعیت کی جوابی کارروائی کرتا آیا ہے۔

Check Also

ایران کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں، امید ہے کامیاب ہوں گے، ٹرمپ

Share امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں، امید …