کلاس روم میں راز ہی راز جہاں پروفیسر اپنے طالبعلموں کے اصل نام سے بھی لاعلم

Share

یونیورسٹی میں استاد کا اپنے طلبہ کے نام نہ جاننا بظاہر ایک عجیب بات لگتی ہے، مگر فرانس کے معروف پروفیسر زاویے کریٹیے کے لیے یہ بالکل معمول کی بات ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ عام طالبعلموں کو نہیں بلکہ فرانس کی خفیہ ایجنسیوں کے مستقبل کے جاسوسوں کو تربیت دیتے ہیں۔پروفیسر کریٹیے اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے زیرِ تربیت زیادہ تر طلبہ کی اصل شناخت ان کے لیے ایک راز ہی رہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ“جن انٹیلیجنس ایجنٹس کو اس کورس پر بھیجا جاتا ہے، میں ان کے پس منظر کے بارے میں بہت کم جانتا ہوں۔ یہاں تک کہ مجھے شک ہے کہ جو نام مجھے بتائے جاتے ہیں، وہ بھی حقیقی ہوں۔”جاسوسی کی دنیا میں شناخت کا چھپانا بنیادی اصول ہے، اور یہی اصول کلاس روم تک بھی نافذ ہے۔ طلبہ اپنی اصل شناخت، ماضی اور حتیٰ کہ نام بھی خفیہ رکھتے ہیں۔اگر کوئی شخص جاسوسی کی تعلیم کے لیے کسی ادارے کا تصور کرے تو پیرس کے مضافات میں واقع معروف تعلیمی ادارہ ’سائنسز پو‘ کا کیمپس اس مقصد کے لیے ایک مثالی مثال ہے، جہاں علم، سیاست اور خفیہ دنیا کے راز ایک ہی چھت تلے پروان چڑھتے ہیں۔یہ انکشاف ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی دنیا میں سب سے قیمتی چیز معلومات نہیں بلکہ رازداری ہے۔

Check Also

بنگلادیش کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کے فیصلے کا جائزہ لے گا

Share کرکٹ ٹیم کا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ …