
یونیورسٹی میں استاد کا اپنے طلبہ کے نام نہ جاننا بظاہر ایک عجیب بات لگتی ہے، مگر فرانس کے معروف پروفیسر زاویے کریٹیے کے لیے یہ بالکل معمول کی بات ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ عام طالبعلموں کو نہیں بلکہ فرانس کی خفیہ ایجنسیوں کے مستقبل کے جاسوسوں کو تربیت دیتے ہیں۔پروفیسر کریٹیے اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے زیرِ تربیت زیادہ تر طلبہ کی اصل شناخت ان کے لیے ایک راز ہی رہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ“جن انٹیلیجنس ایجنٹس کو اس کورس پر بھیجا جاتا ہے، میں ان کے پس منظر کے بارے میں بہت کم جانتا ہوں۔ یہاں تک کہ مجھے شک ہے کہ جو نام مجھے بتائے جاتے ہیں، وہ بھی حقیقی ہوں۔”جاسوسی کی دنیا میں شناخت کا چھپانا بنیادی اصول ہے، اور یہی اصول کلاس روم تک بھی نافذ ہے۔ طلبہ اپنی اصل شناخت، ماضی اور حتیٰ کہ نام بھی خفیہ رکھتے ہیں۔اگر کوئی شخص جاسوسی کی تعلیم کے لیے کسی ادارے کا تصور کرے تو پیرس کے مضافات میں واقع معروف تعلیمی ادارہ ’سائنسز پو‘ کا کیمپس اس مقصد کے لیے ایک مثالی مثال ہے، جہاں علم، سیاست اور خفیہ دنیا کے راز ایک ہی چھت تلے پروان چڑھتے ہیں۔یہ انکشاف ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی دنیا میں سب سے قیمتی چیز معلومات نہیں بلکہ رازداری ہے۔
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved