
امریکی حکام کے مطابق کینیڈا کے شہری ڈیلاس پوکورنک پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پائلٹ اور فضائی میزبان کا روپ دھار کر تقریباً چار برسوں کے دوران سینکڑوں بار مفت فضائی سفر کیا۔استغاثہ کے مطابق 33 سالہ پوکورنک، جو ٹورنٹو کے رہائشی ہیں، نے ایسی جعلی شناختی دستاویزات اور بیجز تیار کیے جو صرف ایئرلائنز کے ملازمین کو جاری کیے جاتے ہیں۔ انہی دستاویزات کی مدد سے انہوں نے امریکی فضائی کمپنیوں کی پروازوں میں بغیر ٹکٹ سفر کیا، حتیٰ کہ ایک موقع پر طیارے کے کاک پٹ میں ’جمپ سیٹ‘ پر بیٹھنے کی درخواست بھی کی۔عدالتی دستاویزات کے مطابق پوکورنک سنہ 2017 سے 2019 تک کینیڈا کی ایک فضائی کمپنی میں بطور فضائی میزبان کام کر چکے تھے، تاہم مبینہ فراڈ کے وقت وہ کسی بھی ایئرلائن کے ملازم نہیں تھے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملازمت ختم ہونے کے بعد انہوں نے جعلی بیجز کے ذریعے تین امریکی ایئرلائنز کو دھوکا دیا اور ان پروازوں میں سفر کیا جو صرف پائلٹس اور کیبن کریو کے لیے مختص ہوتی ہیں۔پوکورنک کو پانامہ میں گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا، جہاں وہ فراڈ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ استغاثہ کے مطابق پوکورنک کا طریقۂ واردات حیران کن حد تک لیونارڈیو ڈی کیپریو کی 2002 کی فلم سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں مرکزی کردار پائلٹ کا روپ دھار کر دنیا بھر میں سفر کرتا ہے۔محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ اگرچہ فردِ جرم میں جنوری سے اکتوبر 2024 تک کی مدت شامل ہے، تاہم حکام کے مطابق پوکورنک کی مبینہ سرگرمیاں جنوری 2020 سے اکتوبر 2024 تک جاری رہیں۔اگر الزامات ثابت ہو گئے تو پوکورنک کو 20 سال تک قید اور 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved