امریکا کا وینزویلا پر حملہ: جیک رائن کی کہانی 6 سال بعد حقیقت بن گئی

Share

امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا میں اچانک فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے، تاہم اس واقعے نے غیر متوقع طور پر ایک مشہور امریکی ٹی وی سیریز کو بھی دوبارہ خبروں کا حصہ بنا دیا ہے۔ٹام کلینسی کی مشہور سیریز جیک رائن کے سیزن 2 کا ایک چھ سال پرانا منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جسے ناظرین آج کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال سے حیران کن حد تک مشابہ قرار دے رہے ہیں۔یہ سیزن 2019 میں ریلیز ہوا تھا، مگر وینزویلا میں حالیہ امریکی کارروائی کے بعد انٹرنیٹ صارفین اس کے ایک خاص مکالماتی منظر کو گویا ’’حقیقت کی پیش گوئی‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ وائرل ہونے والا یہ کلپ کسی سنسنی خیز ایکشن سین پر مشتمل نہیں، بلکہ ایک طویل اور سنجیدہ مکالمہ ہے۔منظر میں سی آئی اے کے تجزیہ کار جیک رائن (اداکار جان کراسنسکی) واشنگٹن کی سیاسی اشرافیہ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی خطرات سے متعلق روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر سب سے بڑا خطرہ کون سا ملک ہے؟گفتگو کے دوران شرکاء روس، چین اور شمالی کوریا کے نام لیتے ہیں، مگر جیک رائن بحث کا رخ اچانک وینزویلا کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:’’کیا کسی نے وینزویلا کا نام لیا؟ نہیں؟ سب مطمئن ہیں کہ وینزویلا کوئی خطرہ نہیں؟ تو یہ بتائیں کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کس ملک کے پاس ہیں؟ سعودی عرب اور ایران سے بھی زیادہ۔ اور سونا؟ افریقہ کی تمام کانوں سے بھی زیادہ۔‘‘اس کے بعد وہ وینزویلا کے تیل، سونے اور دیگر معدنی وسائل کی تفصیل بیان کرتے ہیں، جنہیں سعودی عرب، ایران اور عراق سے بھی زیادہ قیمتی قرار دیا جاتا ہے۔ پھر وہ اس تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اتنے وسیع وسائل کے باوجود ملک شدید انسانی اور معاشی بحران کا شکار کیوں ہے۔جیک رائن نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وینزویلا کمزور نہیں بلکہ انتہائی قیمتی ملک ہے۔ ان کے مطابق، وسائل کے اعتبار سے وینزویلا دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے، اور امریکا کے قریب واقع ایک کمزور مگر وسائل سے مالا مال ریاست عالمی طاقتوں کے لیے مداخلت کی کھلی دعوت بن سکتی ہے۔اس منظر کی دوبارہ مقبولیت کے بعد سوشل میڈیا صارفین اسے فکشن اور حقیقت کے درمیان حیران کن مماثلت قرار دے رہے ہیں۔ کئی افراد کے مطابق یہ منظر آج کسی خفیہ بریفنگ سے کم محسوس نہیں ہوتا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ سال قبل اسی منظر کو ناقدین نے حقارت آمیز، کھلی جنگی تشہیر اور نیوکنزرویٹو نظریے کا عکاس قرار دیا تھا، مگر آج یہی مکالمہ حالات کے تناظر میں ایک چونکا دینے والی پیش گوئی محسوس ہو رہا ہے۔اگر آپ چاہیں تو میں اسے مختصر ورژن، سنسنی خیز ہیڈ لائن، یا سوشل میڈیا پوسٹ کے انداز میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔

Check Also

امریکا کی وینزویلا کے قریب روسی تیل بردار جہاز پر قبضے کی کوشش

Share امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب روسی تیل بردار جہاز بیلا 1 ( …