عراقی وزیراعظم نے ایران پر حملوں کے لیے امریکا کو اپنی سرزمین دینے سے انکار کردیا۔
عراقی وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم علی الزیدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بغداد اپنی سرزمین کو پڑوسی ملکوں پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا. ایران نے نئے امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں یورپ پر حملوں کی دھمکی دے دی، جبکہ جنگ کی صورت میں تیل 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کا امکان بھی ظاہر کردیا۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف نئی جنگ مسلط کیے جانے کی صورت میں ایران کے جوابی میزائل حملے یورپ تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ایران کا ردعمل دشمن کے حملے کے حجم یا مقام تک محدود اور متناسب نہیں ہوگا بلکہ یہ وسیع، شدید اور تزویراتی نوعیت کا ہوگا، جس کے لیے جغرافیائی حدود کی کوئی پابندی نہیں ہوگی. نہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی تخریبی کارروائی یا فوجی جارحیت کا جواب دیا جائے گا اور ایرانی میزائل یورپ میں موجود اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول ایسی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر لے جا سکتی ہے۔ایرانی رکن پارلیمنٹ نے ایرانی مسلح افواج اور فوجی کمانڈروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اپنے مخالفین میں خوف، شکوک اور اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ملک پر تیسری جنگ مسلط کرنے کی کوششیں ناکام بنا چکا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے جون 2025 میں ایران کے خلاف پہلی فوجی کارروائی کی تھی جو 12 روز جاری رہی، جبکہ دوسری جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی اور 40 روز بعد اپریل کے شروع میں رک گئی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق دونوں مواقع پر ایران کی مزاحمت اور جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی