ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی۔
ترک میڈیا کے مطابق 600 رکنی ترک پارلیمنٹ میں معاہدے کے حق میں 279 ووٹ آئے جبکہ 119 ارکان نے مخالفت کی، مجموعی طور پر 398 ارکان نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا۔ ترک ارکانِ پارلیمان کی منظوری کے بعد نافذ ہونے والے اس معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا نہیں۔حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے رکن ضیا آلتونیالدز نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد خطے میں سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
یاد رہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان شریک تھے۔معاہدے میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور خطے سمیت دنیا میں امن و استحکام کے قیام کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔ مکہ دفاعی معاہدے کے مطابق اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہو گا۔ ریٹائرڈ پاکستانی جنرل نعمان محمود کو اس کا پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے۔ وہ ممکنہ طور پر تین سال کی مدت کے لیے اس عہدے پر خدمات انجام دیں گے۔