بھارتی فلم انڈسٹری میں کام کرنے والی مراکشی نژاد کینیڈین فنکارہ نورا فتحی نے 200 کروڑ کیس میں عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارت میں ورک ویزا پر مقیم ہیں۔
بالی ووڈ اداکارہ نورا فتحی جمعے کے روز 200 کروڑ روپے کے بھتہ خوری کیس کے سلسلے میں دہلی کی ’روز ایونیو کورٹ‘ میں ایڈیشنل سیشن جج گگن دیپ سنگھ کے سامنے پیش ہوئیں۔ مراکشی نژاد کینیڈین فنکارہ نورا فتحی اس کیس میں استغاثہ کی گواہ کے طور پر عدالت میں حاضر ہوئیں۔
نورا فتحی نے عدالت کو بتایا کہ وہ بھارتی موسیقی کی بڑی کمپنی ’ٹی سیریز‘ کے ساتھ ورک ویزے پر بھارت میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنے چنئی کے دورے اور سوکیش چندرشیکھر کی اہلیہ لینا پالوز سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات بھی جج کے سامنے رکھیں۔اس سے قبل اداکارہ کی جانب سے پیشی سے استثنیٰ کی درخواست پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بطور گواہ آپ کو عدالت میں حاضر ہونا چاہیے تھا، عدالت کو معمولی بات نہ لیں۔‘ جس کے بعد وہ اس بار خود عدالت میں پیش ہوئیں۔سوکیش چندرشیکھر پر ’فورٹس ہیلتھ کیئر‘ کے پروموٹر شیویندر موہن سنگھ کی اہلیہ ادیتی سنگھ سے مرکزی حکومتی اہلکار بن کر ان کے شوہر کی ضمانت کرانے کے نام پر 200 کروڑ روپے ہتھیا نے کا الزام ہے۔ دہلی پولیس کے اکنامک آفینسز ونگ نے اس کیس میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔پولیس کی تحقیقات کے مطابق سوکیش نے نورا فتحی اور جیکولین فرنینڈس سمیت کئی بالی ووڈ اداکاراؤں کو مہنگے تحائف دیے۔ 2022ء میں ایک لگژری بی ایم ڈبلیو کار کے حوالے سے نورا نے بتایا تھا کہ سوکیش نے گاڑی کی پیشکش کی تھی تاہم انہوں نے اسے قبول نہیں کیا تھا