پاکستانی بیٹر سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ یہ کہنا کہ سیریز کے دوران ڈراپ کرنا اچھی چیز نہیں ہے میرا نہیں خیال اس سے پہلے کبھی ہوا ہے امید ہے آئندہ کبھی ہو گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران سلمان علی آغا نے کہا کہ سیریز میں پچز مختلف ملتی رہی ہیں، ہمیں انگلینڈ کے خلاف میچ آسانی سے جیتنا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ کچھ بیٹرز رنز نہیں کر سکے ،امید ہے فائنل میں رنز کریں گے، میرے شاٹس سلیکشن ایسی تھی، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔پاکستانی بیٹر نے مزید کہا کہ یہ کہنا کہ میں سنجیدہ نہیں لیتا، اس بات سے اتفاق نہیں کروں گا، 25 کروڑ لوگوں میں سے آپ کو موقع مل رہا ہو تو آپ کیوں نہیں سنجیدہ ہوں گے، میں پاکستان کی طرف سے کھیلوں، تو کیوں سیریس نہیں لوں گا؟ اُن کا کہنا تھا کہ کپتان کا دباؤ ضرور ہوتا ہے، اب کم دباؤ محسوس ہوتا ہے ،کل بھی ہاوس فل ہو گا یہی کہوں گا کہ ہمیں سپورٹ کریں۔سلمان علی آغا نے یہ بھی کہا کہ فخر اور بابر 10 سال سے ون ڈے کے بیسٹ پلئیرز ہیں، بڑی سیریز جتوائی ہیں، فخر فائنل میں اچھے رنز کرتے ہیں فخر اور بابر اعظم کل رنز کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جہاں ہم کھیلے وہاں اتنے ہی رنز بن سکتے تھے اور ہم نے اس کا دفاع بھی کیا، بیٹرز کو اپنی ففٹیز کو لمبے اسکور میں لے جانا پڑے گا اگر ایسا ہو گا تو ہمارے بھی 350پلس رنز بن سکتے ہیں۔پاکستانی بیٹر نے کہا کہ کل بھی ہاوس فل ہو گا یہی کہوں گا کہ ہمیں سپورٹ کریں،نوجوان کھلاڑی بڑے باصلاحیت ہیں پاکستان کے لیے لمبا کھیلیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ فلاپ ہونے والے کھلاڑیوں کو میں سمجھتا ہوں کہ مناسب مواقع ملنے چاہیں تاکہ وہ مشکل وقت سے خود کو نکال سکیں، شاداب کی صورت میں ہمیں 8 ویں نمبر پر ایسا کھلاڑی ملتا ہے کہ جو رنز کر سکتا ہے۔سلمان علی آغا نے کہا کہ شاداب اور حارث روف نے شاندار بیٹنگ کی اعصاب پر قابو پایا ایسے میچز روز روز نہیں ہوتے، سیریز کے دوران ڈراپ کرنا اچھی چیز نہیں ہے، میرا نہیں خیال اس سے پہلے کبھی ہوا ہے امید ہے کہ آئندہ کبھی ہو گا.