1000003049

زمین پر پانی کہاں سے آیا؟ سائنس دانوں نے بالآخر زمین کے حوالے سے ایک بڑے سائنسی معمے کا جواب تلاش کر لیا۔

کئی دہائیوں سے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ زمین کی سطح کے تقریباً 71 فیصد حصے کو ڈھانپنے والا زیادہ تر پانی اربوں سال قبل سیارچے، دمدار ستارے اور دیگر اجرامِ فلکی (Celestial Object) اپنے ساتھ لائے تھے، جو زمین سے ٹکرائے تھے۔

اب ایک نئی تحقیق سے عندیہ ملا ہے کہ پانی کائنات کے دور دراز حصوں سے آنے والے اجرام کے ذریعے زمین تک نہیں پہنچا بلکہ زمین نے ساڑھے 4 ارب سال قبل اپنی تشکیل کے دوران ہی اپنے پانی کا بڑا حصہ خود پیدا کیا۔

یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ زمین کے ابتدائی ماحول میں موجود ہائیڈروجن اور چٹانی ذرات کے درمیان کیمیائی تعامل کے نتیجے میں محض چند منٹوں میں پانی پیدا ہو سکتتحقیق کے نتائج سائنسی جریدے نیچر جیو سائنس میں شائع ہوئے، یہ نتائج تجربے گاہ میں کیے گئے ان تجربات سے حاصل کیے گئے جن میں سلیکیٹ چٹانوں کو 1,200 سے 1,400 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا گیا۔

ان تجربات کے دوران سائنس دانوں نے چٹانوں کو ہائیڈروجن کے ساتھ ایسے ماحول میں رکھا جو زمین کی تشکیل کے ابتدائی دور سے مشابہ تھے۔

محققین نے دریافت کیا کہ نمونوں میں موجود آئرن آکسائیڈ کا تقریباً 80 فیصد حصہ تبدیل ہو کر دھاتی آئرن میں تبدیل ہو گیا، جبکہ اس عمل کے ضمنی نتیجے کے طور پر آبی بخارات پیدا ہوئے۔

محقیقن کے مطابق نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کی تشکیل چٹانی سیاروں پر ایک قدرتی عمل ہو سکتی ہے۔

اس دریافت کے ماورائے زمین زندگی کی تلاش پر بھی اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، ممکن ہے کہ دوسرے ستاروں کے گرد گردش کرنے والے زمین کے حجم کے سیاروں پر بھی اسی نوعیت کے کیمیائی تعاملات ہوئے ہوں، جن کے نتیجے میں برفیلے اجرام سے ٹکراؤ کے بغیر پانی تشکیل پا سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نتائج اس عام تصور سے بھی اختلاف کرتے ہیں کہ زمین کو زندگی کے لیے ضروری پانی کسی بیرونی ذریعے سے حاصل کرنا پڑا تھا، تاہم سائنس دان ابھی تک یہ حساب نہیں لگا سکے کہ زمین پر موجود پانی کے موجودہ ذخیرے کا کتنا حصہ اس عمل کے ذریعے تشکیل پایا، اس لیے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ سیارچوں اور دمدار ستاروں نے بھی زمین تک پانی پہنچانے میں کردار ادا کیا ہوا تھا۔

متعلقہ ٹیگز:#Technology