1000302789

برطانوی روزنامہ ’دی ٹیلیگراف‘ کے مطابق ایران کو جلد ہی روس سے جدید ایئر ڈیفنس سسٹم ایس 400 ملنے والا ہے، روس اور ایران کا معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے۔

اخبار نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور محسن رضائی کے حالیہ روسی دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان دوروں میں روس اور ایران کے درمیان گیس کی نئی پائپ لائن بچھانے پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ ساتھ ہی اخبار نے ایران کے لیے ایسے روسی میزائلوں کی تیاری کا بھی انکشاف کیا ہے جنہیں ہیلی کاپٹر سے فائر کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے سکیورٹی چیف محسن رضائی کو جمعرات کے روز ایک خصوصی خط کے ساتھ ماسکو بھیجا تھا۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق خط کا بنیادی مطالبہ روس سے ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی فراہمی تھا. محسن رضائی نے ماسکو میں ملاقات کے بعد کہا کہ صدر پیوٹن کے ساتھ اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور جنگ کے بعد کی صورت حال اور خطے کے سکیورٹی انتظامات سے متعلق اہم بات چیت ہوئی۔ مذاکرات میں روس اور ایران کے درمیان نئی گیس پائپ لائن کی تعمیر کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔

رپورٹ کے مطابق ایران حالیہ عرصے میں روس کے ساتھ اسلحے کی فراہمی کے متعدد معاہدے کرچکا ہے۔ ان معاہدوں کو امریکا کے ساتھ ممکنہ طویل جنگ میں اپنی بقا اور اسلامی جمہوریہ کے تحفظ کے لیے تہران کی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دی ٹیلیگراف کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کی ایک خفیہ کمیٹی نے جنگ کی صورت میں ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے تجاویز مرتب کی تھیں۔ ان میں چین اور روس جیسی آزاد عالمی طاقتوں کے ساتھ، بالخصوص فوجی شعبے میں، اسٹریٹجک تعلقات مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تھا تاکہ امریکی دباؤ کا مقابلہ کیا جاسکے۔ ان تجاویز میں فضائی دفاع، میزائلوں اور ڈرونز کی صلاحیت بڑھانا بھی شامل تھا. ایران کے لیے ایس 400 نظام کا حصول اس کی دفاعی پالیسی میں اہمیت رکھتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا، جس سے ملک کی فضائی حدود، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھے۔ حملوں میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اہم شخصیات بھی نشانہ بنیں۔رپورٹ میں تجزیہ کاروں اور علاقائی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ماسکو کئی برس سے ایران کو ایسے نظام فروخت کرنے کے اشارے دیتا رہا ہے، تاہم اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے خدشے کے باعث فراہمی سے گریز کرتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے پاس بھی ایس 400 نظام ایران کو دینے کی محدود گنجائش ہوسکتی ہے۔ یوکرین کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور میزائلوں کے حملوں کے باعث روسی فضائی دفاعی نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور اسے اپنی ریفائنریوں، فضائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ان نظاموں کی ضرورت ہے

متعلقہ ٹیگز:#World