1000301169

اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ، امریکی ارب پتی شخصیت ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس نے 2028ء کے صدارتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان، سینیٹ اور صدارت تینوں پر کامیابی حاصل کر لی تو امریکا میں ایک جماعتی نظام قائم ہو سکتا ہے جس سے جمہوریت متاثر ہو گی۔ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈیموکریٹس کامیابی کی صورت میں واشنگٹن ڈی سی اور پورٹو ریکو کو نئی ریاستیں بنا سکتے ہیں جس سے سینیٹ میں اپنی اکثریت مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم افراد کو قانونی حیثیت دے کر مستقل سیاسی اکثریت قائم کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافے سے عدالتی اثر و رسوخ بھی بڑھا سکتے ایلون مسک نے کہا ہے کہ اس صورتِ حال سے امریکا میں یک جماعتی نظام قائم ہو سکتا ہے اور جمہوریت اپنی حقیقی معنی کھو سکتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ 2029ء میں سینیٹ میں ری پبلکنز کے کم از کم 51 ارکان کی موجودگی اس صورتِ حال کو روکنے کے لیے ضروری ٹیسلا کے سربراہ نے امریکی عوام پر زور دیا کہ وہ رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن سینیٹرز کو ووٹ دیں کیونکہ امریکا کا مستقبل ان ہی انتخابات سے جڑا ہے۔یاد رہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے جن میں کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت کا فیصلہ ہو گا۔واضح رہے کہ ایلون مسک ماضی میں خود کو سیاسی طور پر غیر جانبدار قرار دیتے تھے تاہم 2022ء کے بعد ان کا جھکاؤ ری پبلکن پارٹی کی جانب بڑھا ہے۔ایلون مسک نے 2024ء میں ری پبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے سیاسی تنظیم بھی قائم کی اور 2026ء کے وسط مدتی انتخابات کے لیے ری پبلکن جماعت سے وابستہ امیدواروں اور گروپس پر 445 ملین ڈالرز سے زائد رقم بھی خرچ کی ہےہےہیں۔

متعلقہ ٹیگز:#World