امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ جلد کر لیں گے۔
ان کا یہ بیان قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں، معاشی دباؤ برقرار رکھنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی معاہدے کے امکانات پر غور کیا گیا۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ قومی سلامتی کے مشیروں نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ ایران کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا، یہ ملاقات صدر کو دی جانے والی ہفتہ وار انٹیلی جنس بریفنگ کے دوران ہوئی، دو امریکی حکام نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔
یاد رہے کہ 3 نومبر امریکا میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا اور ٹرمپ اور ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، انتخابی نتائج پر مہنگائی، ایران کے ساتھ جنگ اور ملک کی قیادت کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں پر ووٹرز کی ناراضی کا اثر نمایاں رہا۔لاوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال ہونے سے روکنے کے لیے مزید فوجی کارروائی ضروری ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ہم فیصلہ کریں گے کہ کیا ہم مزید حملے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ممکن ہوا تو میں باقی ملک یعنی ایران کو تباہ نہیں کرنا چاہوں گا لیکن شاید مجھے ایسا کرنا پڑے، آپ کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔امریکی انتظامیہ اس وقت تین ممکنہ آپشنز پر غور کر رہی ہے، ان میں ایران پر حملوں کی ایک اور لہر شروع کرنا، تہران پر معاشی دباؤ برقرار رکھنا یا ایسے معاہدے تک پہنچنا شامل ہے جس کے تحت ایران کو اہم رعایتیں دی جائیں۔ٹرمپ کے لیے وسط مدتی انتخابات کو اس لیے اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا تھا کہ آیا وہ جنگ میں مزید شدت لانے کا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں۔ایگزیوس کے مطابق جس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مشیروں کے ہمراہ آئندہ حکمت عملی پر غور کر رہے تھے، اس دوران ایران اور علاقائی ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی تیزی آئی، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، عمان اور مصر کے ثالثوں سے ٹیلی فوننک رابطے کیے۔رپورٹ میں علاقائی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ قطری ثالثوں نے ایرانی حکام اور وائٹ ہاؤس کے ساتھ ایک مجوزہ معاہدے کے مسودے پر بات چیت جاری رکھی، اس معاہدے کا مقصد 2 روز کے اندر فریقین کے مابین باہمی اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال کرنا ہے۔مجوزہ منصوبے کے مطابق پہلے روز امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور تہران کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ رقم جاری کرے گا، اس کے بدلے ایران باضابطہ طور پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو ان جوہری تنصیبات کے معائنے کی دعوت دے گا جن پر بمباری کی گئی تھی۔ یہ اقدام ایک سال قبل قاہرہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق ہوگا۔منصوبے کے دوسرے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال ہوں گے، ان مذاکرات میں ایران کے پاس موجود اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق یہ تجویز ابھی سفارتی بات چیت کا حصہ ہے اور کسی فریق کی جانب سے مجوزہ شرائط قبول کیے جانے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے محسن رضائی نے کریملن میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کی، یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو اور امریکا و ایران کے درمیان ثالثی کے لیے روس کی تجاویز کے بعد ہوئی۔محسن رضائی نے بتایا کہ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام روسی صدر تک پہنچایا ہے، صدر پیوٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ تاہم رضائی نے واضح کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بھی سفارتی رابطے کے لیے اپنی شرائط پر قائم ہے۔ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم نے صدر پیوٹن کو بتایا کہ ہم نے سفارت کاری کے حوالے سے امریکیوں کے سامنے 7 شرائط رکھی ہیں اور جب تک امریکا ہماری ساتوں شرائط پوری نہیں کرتا اس وقت تک نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ ہی کوئی مذاکرات ہوں گے۔دوسری طرف سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ امریکی فوج بھی ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے امکان کے پیش نظر تیاریاں کر رہی ہے۔ایگزیوس کو ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے تاہم اسے واشنگٹن کی جانب سے تاحال کوئی نیا حکم موصول نہیں ہوا، ممکنہ فوجی کارروائیوں میں اضافے کی وجہ مشرق وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے تیسرے طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے کی آمد ہو سکتی ہے۔امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اور اس کا جنگی بیڑہ ابھی سنگاپور میں چند روز قیام کرے گا، یہ بحری بیڑہ نومبر کے وسط سے پہلے سینٹ کام کے زیر انتظام علاقے میں نہیں پہنچے گا۔واشنگٹن کی جانب سے مختلف آپشنز پر غور اور سفارتی رابطوں کے باوجود ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا وقت تاحال غیر یقینی ہے، ٹرمپ نے جلد اس بارے فیصلہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ وہ نئے حملوں کا حکم دیں گے، معاشی دباؤ برقرار رکھیں گے یا مذاکرات کے ذریعے معاہدے کی کوشش کریں گے۔