اپوزیشن نے آل پارٹیز کانفرنس رواں ماہ کے وسط میں بلانے کا فیصلہ کرلیا۔
اے پی سی کا دورانیہ ایک روز کے بجائے دو روز کرنے اور ایجنڈا وسیع تر کرنے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔مجوزہ ایجنڈے میں سیاسی، پارلیمانی، معاشی، داخلی اور خارجی امور شامل ہوں گے، جبکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ، اسیران کی رہائی اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ مختلف تنظیموں کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں خارجہ امور اور معاشی ماہرین، کسانوں، وکلا اور صحافتی تنظیموں کے نمائندگان کو دعوت دینے کی تجویز ہے۔متحدہ اپوزیشن کی 6 رکنی سیاسی کمیٹی اور دو کوآرڈینیٹرز نے اے پی سی کی تیاریوں اور مشاورت کا عمل تیز کردیا ہے۔ اپوزیشن آئندہ ہفتے سے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کرے گی۔