افغانستان کے عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ذاتی محافظ کو صوبہ بغلان میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سراج الدین حقانی کے ذاتی محافظ کی لاش ضلع دند غوری میں سڑک کنارے سے ملی، جس پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔رپورٹس کے مطابق واقعہ جمعہ، 6 نومبر 2026ئ کو پیش آیا، جبکہ ہفتہ، 7 نومبر کو واقعے اور مقتول کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔
افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ قتل کیے جانے والے محافظ کی شناخت قاری نور جان احمدزئی کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنے عرفی نام ’طیب بدری‘ سے بھی مشہور تھا۔ اس کا تعلق صوبہ بغلان کے ضلع دند غوری سے بتایا جارہا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق قاری نور جان اپنے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے آبائی علاقے میں موجود تھا، جب اسے نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں مقتول کی لاش سڑک کے کنارے سے برآمد ہوئی۔