
وفاقی حکومت کو رواں برس حج آپریشن کی مد میں 44 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زائد آمدن متوقع ہے۔حکومت نے رواں برس حج پالیسی میں کی گئی تبدیلیوں کے تحت سرکاری اور پرائیوٹ اسکیم کے تحت 50، 50 فیصد کوٹہ تقسیم کیا جائے گا۔حج پالیسی کے تحت درخواست دہندگان کیلئے بینک اکاؤنٹ ، قومی شناختی کارڈ اور 26 دسمبر 2023 تک کارآمد پاسپورٹ ہونا لازمی ہے۔سرکاری اسکیم کے تحت 3 فیصد کوٹہ ہارڈشپ کیسز کیلئے ہوگا جب کہ 300 سیٹیں مزدوروں یا کم آمدن والے ملازمین کیلئے ہوں گی، ان ملازمین کا تعلق ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سے رجسٹرڈ کمپنیوں سے ہونا چاہئے۔ جب کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر عازمین حج کیلئے روڈ ٹو مکہ منصوبہ برقرار رہے گا۔رواں برس کے لیے بنائی گئی حج پالیسی میں ملک کو درپیش معاشی بحران کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر کو مدنظر رکھا گیا ہے۔حکومت کو رواں برس حج آپریشن سے 44 کروڑ 40 لاکھ ڈالر آمدن متوقع ہے جو کہ پاکستانی کرنسی میں 36 ارب 32کروڑ 9لاکھ روپے سے زائد بنتے ہیں۔سرکاری حج کوٹہ کی اسپانسرشپ اسکیم کے تحت 19 کروڑ 40 لاکھ ڈالر آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے جب کہ نجی حج اسکیم کے ذریعے 25 کروڑ ڈالر ریونیو حاصل ہونے کا اندازہ ہے۔