
بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس کا لانگ مارچ مختلف ریاستوں سے ہوتے ہوئے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گیا۔ راہول گاندھی پرامید ہیں کہ وہ کسی حد تک کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرلیں گے، جو ہندو قوم پرست جماعت کی حکومت کے دور میں خاصی کم ہوئی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے 2019 کے انتخابات میں شکست کے بعد راہول گاندھی کی جانب سے نفرت اور تقسیم کے خلاف لانگ مارچ میں ایک ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی تھی، اس کا مقصد کانگریس پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ تھا

رپورٹ کے مطابق اس بار مارچ میں انہیں عوام کی جانب سے توقع سے بڑھ کر حمایت حاصل ہوئی، نئی دہلی میں 9 دن وقفہ کرنے کے بعد یہ 3 جنوری کو سرینگر کی جانب رواں دواں ہوگا، راہول گاندھی کی والدہ اور کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی، پارٹی کی رہنما پریانکا گاندھی اور ان کے شوہر روبرٹ ہفتے کو لانگ مارچ میں شامل ہوئے تھے۔نہرو گاندھی کے خاندان نے کانگریس کی دہائیوں تک سربراہی کی لیکن گزشتہ چند برسوں میں تنزلی کا سامنا کرنا پڑا، راہول گاندھی نے گزشتہ انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا، بھارت میں آئندہ عام انتخابات 2024 میں ہوں گے۔لانگ مارچ کے دوران راہول گاندھی نے اپنی والدہ کے ساتھ تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جو پیار مجھے ان سے ملا ہے، میں اسے اپنے وطن کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔یونائیٹ انڈیا ریلی مارچ کا آغاز ستمبر میں بھارت کے ساحلی شہر کنیا کماری سے ہوا تھا