
سردیوں کی رات تھی اور وقت تھا لگ بھگ ساڑھے بارہ بجے کا۔ سڑک مکمل طور پر سنسان تھی۔ اِکا دُکا کوئی لائٹ نظر آ جاتی تھی اور اسی دوران اچانک گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔‘’راہی صاحب نے کہا کہ گاڑی کے نیچے جہاں جگہ ملتی ہے جیک لگا لو تاکہ ہم جلدی سے ٹائر تبدیل کر کے اس جگہ سے نکل جائیں۔ میں تمہارے پیروں کی طرف کھڑا ہو جاؤں گا تاکہ یہ نہ ہو کہ دُھند میں کوئی گاڑی تمہارے اُوپر سے گزر جائے۔‘یہ الفاظ پاکستان کے معروف اداکار سلطان راہی کے ڈرائیور حاجی احسن علی کے ہیں جو 30 سال قبل آٹھ اور نو جنوری کی درمیانی رات ٹائر کو پنکچر لگانے کے لیے گاڑی کے نیچے لیٹے ہی تھے کہ اچانک پہلے ایک فائر اور فوراً ہی چیخ کی آواز آئی۔ یہ فائر سلطان راہی کو لگا تھا جو ’مولا جٹ‘ کے کردار سے پنجابی سینما میں امر ہونے والے اداکار کی جان لے گیا۔یہ سنہ 1996 کا واقعہ ہے جب پاکستان فلم انڈسٹری کے سپرسٹار سلطان راہی اسلام آباد سے لاہور واپس آ رہے تھے۔ سفید رنگ کی شیورلیٹ گاڑی، جس کا نمبر 8983 ایل او اے تھا، جب گوجرانوالہ بائی پاس روڈ پر پہنچی تو اچانک گاڑی کا پچھلا ٹائر پنکچر ہو گیا۔تھانہ صدر گوجرانوالہ میں درج ہونے والی اِس قتل کی ایف آئی آر (نمبر 19/1996) کے مدعی ڈرائیور حاجی احسن ہی تھے۔ پولیس کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے حاجی احسن نے بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ ’شلوار قمیض پہنے دو افراد، جن کے قد درمیانے، جسم پتلے، عمر 30 سے 32 سال کے لگ بھگ، نے مجھے کالر سے پکڑا اور زبردستی قریبی کھیت کی طرف لے گئے جہاں میری تلاشی لی گئی اور کہا کہ جو کچھ ہے نکال دو۔‘ایف آئی آر کے مطابق دونوں ملزمان نے بعدازاں گاڑی سے سلطان راہی کا بریف کیس اٹھایا اور موقع سے پیدل ہی فرار ہو گئے۔لیکن پھر اس کیس کی تفتیش کے سلسلے میں مدعی یعنی حاجی احسن ہی گرفتار کر لیے گئے۔یہ ایک ایسے قتل کی کہانی ہے جس کی گتھی 30 سال بعد بھی حل نہیں ہو سکی ہے۔ کہا جاتا ہے سلطان راہی ڈاکوؤں کے ساتھ گتھم گتھا ہو گئے تھے جس کی وجہ سے ڈاکوؤں نے بظاہر گھبرا کر فائر کر دیا اور گولی سلطان راہی کا جبڑا چیرتی ہوئی دماغ سے پار ہو گئی۔ڈاکو فرار ہو گئے اور حاجی احسن مختلف گاڑیوں کو رُکنے کے لیے اشارے کرتے رہے مگر کوئی بھی گاڑی نہ رُکی۔ حاجی احسن نے کسی نہ کسی طرح قریبی پٹرول پمپ پر پہنچ کر پولیس کو واقعے کی اطلاع دی جس کے بعد سلطان راہی کے جسد خاکی کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔قاتل کی تلاش کے لیے آرمی ڈاگ سینٹر سے سراغ رساں کتے منگوائے گئے تھے اور پیروں کے نشانات کی مدد سے ملزم تک پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والے کھوجیوں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔کھوجیوں نے جائے وقوعہ سے کُھرا چلایا (یعنی مبینہ ملزمان کے قدموں کا تعاقب کیا) جو کہ گاؤں کے اندر سے ہوتا ہوا دوبارہ بائی پاس روڈ پر آ کر ختم ہو گیا، چونکہ یہ پکی سڑک تھی اس لیے کُھرا اس جگہ سے آگے نہ گیا اور کھوجی کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ قاتل اس جگہ سے آگے کسی بس پر بیٹھ کر فرار ہو گیا ہو گا، یوں سراغ رساں کتے اور کھوجی بظاہر اس کیس میں قاتل کا سراغ لگانے میں ناکام ہو گئے۔‘
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved