کالام کے سیاحتی مقام پر لاہور سے تعلق رکھنے والے 11 سیاح پھنس گئے

Share

کالام کے سیاحتی مقام پر لاہور سے تعلق رکھنے والے 11 سیاح پھنس گئے۔ ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری کے بعد سیاحتی مقامات پر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔سیر و تفریح کیلئے جانے والے لاہور کے شہری بھی کالام کے سیاحتی مقام پلوگاہ ویلی میں پھنس گئے۔برفباری کے باعث تین دن سے پھنسے 11 سیاحوں نے انتظامیہ سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں چند مقامات پر ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد اور گر د و نواح میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہے گا جبکہ ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہستان اور بالاکوٹ میں بارش اور برفباری متوقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کالام میں 16 فٹ، چترال اور مالم جبہ میں 8 فٹ تک برف پڑ چکی ہے، گزشتہ روز کم سے کم درجہ حرارت کالام میں منفی 08 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔اس کے علاوہ دیر کا درجہ حرارت منفی 2 اور چترال کا درجہ حرارت منفی 1 ڈگری تک گر گیا۔محکمہ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ سندھ اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہے گا جبکہ مری، گلیات اور گردونواح میں ہلکی بارش اور برفباری ہوسکتی ہےبارش اور برفباری میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے، بارش اور برفباری کے باعث ری لوکیٹڈ قراقرم ہائی وے کے 9 مختلف مقامات پر سڑکیں بلاک ہوگئیں۔سڑکیں بلاک ہونے کے نتیجے میں شہریوں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے، لینڈ سلائیڈنگ سے 1055 مسافروں کو لے کر آنے والی تقریباً 95 گاڑیاں میں پھنس گئیں، 80 سے زائد پھنسے مسافروں بشمول خواتین اوربچوں کو کھانا فراہم کیا گیا۔پاک فوج متاثرہ علاقوں میں 300 ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی کررہی ہے، اب تک تمام گاڑیوں بشمول مسافروں کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا جبکہ مسافروں نے کامیاب ریسکیو آپریشن پر پاک فوج کا شکریہ بھی ادا کیا۔آر کے کے ایچ کے مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور چٹانیں گرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ متاثرہ مقام پر شہریوں کو احتیاط برتنے کی تاکید بھی کی گئی ہے۔آزاد کشمیر میں 4 روز سے جاری بارش اور برفباری کا سلسلہ تھم گیا، برفباری اورلینڈ سلائیڈنگ سے بند ہونے والی سڑکیں بحال نہ ہوسکیں۔وادی لیپہ اور وادی نیلم کے بالائی علاقوں سمیت برف سے متاثرہ دیہی علاقوں کا زمینی رابطہ تاحال منقطع ہے جبکہ بجلی، ٹیلی فون اور انٹر نیٹ کا نظام بھی بری طرح متاثر ہے۔سخت سردی میں علاقہ مکین گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے جبکہ معمولات زندگی بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی۔محکمہ شاہرات نے سڑکوں کی بحالی کا کام تیز کر دیا، وادی نیلم اور وادی لیپہ برفباری تودے گرنے کے نتیجہ میں سڑکوں کی بحالی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar