
ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو کی مقامی قبرستان میں تدفین کے ساتھ لاہور گینگ وار کا ایک اور باب بند ہوا ہے تو مقتول امیر بالاج کے چھوٹے بھائی نے آگے بڑھ کر لاہور گینگسٹر گروپ کی باگ ڈور سنبھال لی ہے امیر بالاج کے چھوٹے بھائی امیر مصعب کی مدعیت میں قتل کیس میں لاہور کے پرانے اور طاقتور گینگسٹر گروپ کے سربراہ خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ اور خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ کو نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق حملہ آور مظفرحسین اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا، ملزم نے ایک روز قبل نیا موبائل فون اور سم خریدی تھی جو کراچی کی لطیفاں بی بی کے نام نکلی۔پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشنز، انویسٹی گیشن اورآرگنائزڈ کرائم یونٹ کی 3 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، حملہ آور کے موبائل فون ڈیٹا اور لوکیشنز کی مدد سے 3 افراد کو حراست میں لےلیا گیا ہے۔امیر بالاج ٹیپو قتل کیس کی تفتیش کیلئے پولیس نے طیفی اور گوگی بٹ کا سفری ریکارڈ حاصل کر لیا۔#آوئیرانٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ملزم گوگی بٹ کے بیرون ملک فرار ہونے کا ریکارڈ موجود نہیں، البتہ طیفی بٹ 19 فروری کو دبئی گیا، وہ اسلام آباد سے روانہ ہوا تھا۔ وقوعہ کے وقت قاتل ظفر حسین کا پستول شکیل بٹ نے اٹھایا تھا جس سے انویسٹی گیشن پولیس نے برآمد کروا لیا۔ سب انسپکٹر شکیل بٹ کو حراست میں نہیں لیا گیا تاہم تفتیش میں بطور عینی شاہد شامل کیا گیا ہے۔قاتلانہ حملے میں زخمی سابق ڈی ایس پی اکبر اقبال بلا کے بیٹے کی حالت تشویشناک ہے دوسرے زخمی عثمان اکبر کا بھی علاج جاری ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ آور ظفر حسین کی لاش اس کی بیوی حلیمہ بی بی نے وصول کی جس نے میانوالی دفنانے کی خواہش ظاہر کی۔یہ لاہور پولیس کے لیے ایک بھاری دن تھا، اندرون لاہور سے تعلق رکھنے والے بالاج ٹیپو کا جنازہ اٹھ رہا تھا اور اوپر سے نیچے تک سب پولیس افسران سر جوڑے بیٹھے تھے۔پولیس کا ماننا ہے کہ امیر بالاج ٹیپو اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھے ہیں جس کی وجہ سے ان کے والد ٹیپو ٹرکاں والا اور دادا بلا ٹرکاں دنیا سے گئے تھے۔آئیے اس لاہوری گینگ وار کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیںتین نسلوں پر محیط اس دشمنی کو بڑھاوا دینے والے لاہور کی انڈرورلڈ اصل میں ہے کیا اور یہ کیسے کام کرتی ہے اور اب تک کتنے افراد اس لڑائی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔؟بلا ٹرکاں والا گینگیہ 60 کی دہائی کی بات ہے اندرون لاہور میں ٹرکوں کا اڈا چلانے والے بلا ٹرکاں والا سے شروع ہونے والی کہانی اب بھی زندہ ہے’بِلا لاہور کے انڈرولڈ کا بادشاہ مانا جاتا تھا۔ ان کے عروج کے دور میں ہر گینگ اور ہر اشتہاری ملزم ان کی دسترس میں تھا۔ شفیق عرف بابا، حنیف عرف حنیفا، اکبر عرف جٹ، ہمایوں گجر اور بھولا سنیارا جیسے بڑے بدمعاش ان کی مٹھی میں تھے اور ایک اشارے پر وہ کچھ کر دیتے تھے کہ علاقے میں بلے کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔شفیق عرف بابا اور حنیف عرف حنیفا تو بلے کے ملازم تھے لیکن لاہور ان کی مٹھی میں تھا۔ تاہم کہانی نے ایک ایسا موڑ لیا کہ انہی دونوں نے بلے ٹرکاں والے کو انہی کے ڈیرے پر قتل کر دیا۔ یہاں سے اس نہ ختم ہونے والی لڑائی کی شروعات ہوئی۔‘بلا ٹرکاں والا کے قتل کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس گینگ سے ایک قتل ہو گیا جس میں بلے کا بیٹا عارف امیر عرف ٹیپو ٹرکاں والا کے ساتھ بابا اور حنیفا بھی ایف آئی آر میں نامزد ہو گئے۔ تاہم پولیس تفتیش میں ٹیپو کو بے گناہ قرار دے دیا گیا جبکہ بابا اور حنیفا جیل چلے گئے۔انہوں نے کچھ عرصہ جیل میں گزارا اور اس کے بعد اندر سے ہی انہوں نے ساز باز کر کے ضمانت لی اور پھر اس بات کا غصہ بلا ٹرکاں والا کی موت کی صورت میں نکالا گیا۔ جب دونوں نے دن دیہاڑے بلے کو ان کے اپنے ڈیرے پر قتل کر دیا۔‘لاہور کی انڈر ورلڈ کا یہ گینگ یہیں سے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ بلا ٹرکاں والا کے مقابلے میں اس وقت خواجہ تعریف بٹ عرف طیفی بٹ اور گوگی بٹ اس وقت لاہور میں اپنا چھوٹا گینگ چلا رہے تھے۔ اب ٹیپو کی آدھی طاقت ان کے اشتہاری اس گینگ سے جا ملے تھے جو بابا اور حنیفے کے ساتھ تھے۔دوسری جانب ٹیپو ٹرکاں والا نے اپنے باپ کا بدلہ لینے کا کام جاری رکھا اور تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔کہا جاتا ہے کہ ایک ایک کر کے اپنے تمام مخالفین کو مروا دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو انداز ٹیپو نے اختیار کیا تھا وہ یہ تھا کہ اپنے تمام مخالفین کو شوٹروں سے مروایا۔ یعنی خود سامنے نہیں آئے بلکہ کرائے کے قاتل استعمال کیے۔ جس سے ٹیپو کا نام 80 اور 90 کی دہائی میں شاہ عالم گیٹ اور اندرون لاہور میں دہشت کی علامت بن کر ابھرا۔‘یہ گینگ وار اتنی بڑھ گئی کہ پنجاب حکومت کو اسے ختم کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کرنا پڑی اور پولیس مقابلوں میں اشتہاریوں کو مارنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس میں شدت شہباز شریف کے دور حکومت میں آئی جب عابد باکسر جیسے افسر پولیس مقابلوں کے لیے مشہور ہوئے۔ٹیپو البتہ پولیس کے قابو پھر بھی نہیں آیا اور پھر 2003 میں لاہور کچہری کے باہر ٹیپو ٹرکاں والا پر ایک بڑا قاتلانہ حملہ ہوا جس میں مبین بٹ گینگ کے لوگ شامل تھے۔ اس حملے میں ٹیپو کے پانچ گارڈ مارے گئے۔ اور خود بھی شدید زخمی ہوئے۔اس مقدمے میں طیفی بٹ اور گوگی بٹ دونوں بھائیوں کو نامزد کیا گیا۔بات یہاں نہیں رکی، ٹیپو ٹرکاں والا پر یہ بھی الزام بھی لگا کہ انہوں نے ظفر عرف ظفری نت کو اس وقت قتل کروایا جب وه انسپکٹر عابد باکسر کو دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ملنے جا رہے تھے۔ ظفری نت اور مزید چار لوگوں کے قتل کا مقدمہ ٹیپو ٹرکاں والا پر ہی درج ہوا۔‘اس گینگ کو پہلوان نامی ایک گینگسٹر کی بھی پوری آشیرباد حاصل تھی۔ بچھو پہلوان ٹیپو کا رائٹ ہینڈ تھا۔ٹیپو نے پرویز مشرف دور میں اپنا کاروبار دبئی میں شفٹ کر لیا اور اپنے خاندان کے افراد خاص طور پر اپنے بڑے بیٹے بالاج ٹیپو کو بھی ملک سے باہر ہی رکھا اور تعلیم دلوائی۔تاہم 2010 میں ٹیپو ٹرکاں والا جب ملک لوٹے تو ان کو ایئرپورٹ پر ہی قتل کر دیا گیا ان پر خرم اعجاز نامی شخص نے گولیاں چلائیں جس کا مقدمہ طیفی بٹ، گوگی بٹ اور ملک احسان کے خلاف درج ہوا۔عارف امیر ٹیپو ٹرکاں والا قتل کیس میں دہشتگردی کی عدالت نے مرکزی ملزم خرم اعجاز کو دو مرتبہ سزائے موت کی سزا سنائی تھی جو بعدازاں 25 سال میں تبدیل ہوئی۔عارف امیر المعروف ٹیپو ٹرکاں والا کے بعد ان کا بیٹا بالاج ٹیپو ٹرکاں والا اپنی خاندانی دشمنی کو لے کر چل رہا تھا۔ ان کے گینگ میں پہلوان برادرز اور بابر بٹ لکھو ڈیریا برادرز شامل تھے۔ تاہم اب وہ خود بھی اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔60 کی دہائی سے شروع ہونے والی لاہور کی انڈر ورلڈ نے زیر زمین دنیا کے ان گنت کردار پیدا کیے ہیں۔ کچھ پولیس کے ہاتھوں تو کچھ آپس کی گروہی لڑائی سے انجام کو پہنچے۔لاہور میں گزشتہ 50 برس سے نوری نت، میاں معراج دین ماجھا سکھ، کالو شاہ پوریا، بھولا سنیارا، گوگی بٹ، طیفی بٹ، ریا ض گجر، اسلم ٹانگے والا، بلا ٹرکاں والا، ٹیپو ٹرکاں والا، ارشد امین چودھری، عابد چودھری، عاطف چودھری، نواز جٹ، ہمایوں گجر، حنیفا بابا، راجپوت برادری، شیخ روحیل اصغر، میاں اخلاق گڈو، بھنڈر، رئیس ٹینکی اور ملک زاہد گروپ کے درمیان دشمنیاں چلیں جن میں ایک ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے۔ان بڑے گروپس کے پیچھے اچھو باڑلا اور شیدی باڑلا جیسے لوگ ہوتے تھے، جو اہم کردار ادا کرتے تھے۔ انہی دشمنیوں میں سب سے بڑی دشمنی اخلاق گڈو اور شیخ روحیل اصغر گروپ کی تھی، جن میں اخلاق گڈو کا گروپ ماجھا سکھ سنبھالتا اور روحیل اصغر کے گروپ میں اچھو باڑلا اور چھیدی باڑلا شامل تھے۔دونوں جانب سے درجنوں افراد قتل ہوئے۔ شیخ روحیل اصغر بعد ازاں مسلم لیگ ن کے اہم لیڈر اور ایم این اے بنے۔ ان کے والد شیخ اصغر اور ایک بھائی شیخ شکیل ارشد شادمان چوک میں اسی دشمنی کی نذر ہو گئے تھےان کرداروں پر لالی ووڈ میں بڑی بڑی فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ ان فلموں پر پیسہ بھی یہ گینگ ہی لگاتے تھےٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو کی نماز جنازہ شاہ عالم چوک میں ادا کی گئی، امیر بالاج کو اس کے والد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس گینگ کی “پگ” اب بلا ٹرکاں والا کے پوتے، ٹیپو ٹرکاں والا کے دوسرے بیٹے اور امیر بالاج کے چھوٹے بھائی امیر مصعب کے سر باندھ دی گئی ہے، گوگی بٹ اور طیفی بٹ بھی حیات ہیں اور نئے گینگسٹر کے ساتھ نیا محاذ لڑنے کو. تیار ہیں دیکھتے ہیں کہ لاہور گینگ وار مستقبل میں کیا رخ اختیار کرتی ہے
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved