
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی کو بلے کا نشان واپس دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس حوالے سے آج الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس میں ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے یا ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا۔اس دوران نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی بھی الیکشن کمیشن پہنچے۔مرتضیٰ سولنگی نے الیکشن کمیشن کے اعلان کے بعد کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی تمام ضروریات پوری کرنے کے پابند ہیں، ساری جنگ معیشت اوراقتصادی ہے، سیاست آج کل ہمارا قومی مشغلہ بن گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے متعلق معاملات کا پی ٹی آئی ہی بہتر بتا سکتی ہے، آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت آئینی اور قانونی حکومت ہے، نگران حکومت الیکشن کمیشن کے پیچھے کھڑی ہے۔مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ سیکورٹی کے مسائل حقیقی ہیں، ہمیں ان کا ادراک ہے، انہیں بہتر کریں گے، ملک میں سوال اٹھانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ انتخابات ان شاءاللہ جمعرات 8 فروری کو ہوں گے، ابھی تک الیکشن کمیشن اپنے مؤقف پر کھڑا ہے۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کو بلے کا نشان واپس دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ موصول ہوچکا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے۔فیصلے کے متن میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں تھا، اور ہدایت کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے متعلق سرٹیفیکٹ ویب سائٹ پر جاری کرے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی انتخابی نشان بلے کی حقدار ہے۔گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرکے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا بحال کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد بیرسٹر گوہر خان کی چیئرمین شپ بھی بحال ہو گئی تھی۔ذرائع کے مطابق آج کمیشن کے اجلاس میں لاء ونگ فیصلے پر تفصیلی بریفنگ دے گاپی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بحال نہ کیا تو توہین عدالت ہوگی، ہائی کورٹ کا فیصلہ اگر سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تو وہاں بھی دلائل دیں گے