کیپیٹل ہل میں جو سزائیں دی گئیں اگر وہ جائز ہیں تو یہاں بھی جائز ہیں: وزیراعظم

Share

لوزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی کیپیٹل ہل میں جو سزائیں دی گئیں اگر وہ جائز ہیں تو یہاں بھی جائز ہیں، بڑے بڑے حادثے ہوئے مگر کسی لیڈر نے فوجی تنصیبات پر حملےکا نہیں کہا۔وزیراعظم نے کراچی میں کے فور منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی اور خطاب میں کہا کہ آج یہاں تفصیلی اور پر مغز تقریریں ہوئی ہیں، کراچی شہر کی دونوں جماعتیں وفاق کا حصہ ہیں، خوشی ہوئی کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے میٹھی باتیں کی، پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام دلائیں گے جس طرح کے فور پر سیاست کی گئی وہ انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کراچی کے کروڑوں لوگوں کو پانی پہنچانے کیلئے وزیراعلیٰ کا ہاتھ پکڑا جاتا، اس کو (عمران خان) کوئی فکر نہیں تھی، پاکستان کے ہر منصوبے پر ان کی یہی انا پرور سوچ تھی، روایات اور اچھے انداز میں گفتگو کرنا انہوں نے سیکھا نہیں تھا، چور کا نعرہ لگانے والا اب خود کیس میں آیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ آج چینلج ہے کہ ہمیں اس منصوبے کو فی الفور مکمل کروانا ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ میرے لیے کے فور منصوبہ تمام منصوبوں سے اہم ہے، اگر صاف پانی پینے کےلیے نہیں تو کہاں کی آسودہ زندگی، جو شہر سب سے بڑا کماؤ شہر ماں کی طرح سب کو گود میں لیا ہو، جو شہر سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہوں وہاں پانی پر سیاست ظلم عظیم ہے، جو ہوگیا وہ ہوگیا، یقین دلاتا ہوں کہ بجٹ میں کےفور کو پہلی ترجیح دونگاسانحہ 9 مئی پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھاکہ بڑے بڑے حادثے ہوئے مگر کسی لیڈر نے فوجی تنصیبات پر حملےکا نہیں کہا، 9 مئی کو ہمارے عظیم شہدا کی یادگاروں پر ان جتھوں نے عمران نیازی کی ہدایت پر حملے کیے، حکومتی اتحاد اور پارلیمان نے سازشوں کو دفن کردیا۔انہوں نے کہا کہ کیپیٹل ہل میں جو سزائیں دی گئیں اگر وہ جائز ہیں تو یہاں بھی جائز ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکا میں 2021 میں کیپیٹل ہل (امریکی ایوان نمائندگان) پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے حملےکے مقدمے میں حملہ آوروں کے سرغنہ اسٹیورٹ رہوڈز کو 18 سال قیدکی سزا سنائی گئی ہے

Check Also

شہناز گل پاکستانی ڈرامے کے او ایس ٹی کی مداح نکلیں

Share  بھارتی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ، ماڈل اور میزبان شہناز گل نے بگ باس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *