عثمانی فوج کا طاقتور دستہ جس نے اپنے ہی تین سلطان معزول اور قتل کیے

Share

سلطنت عثمانیہ کے 16ویں سلطان، عثمان دوم، حملہ آور دس جلادوں میں سے تین کو پچھاڑ چکے تھے جب ایک پھندے کا شکار ہوکر گِر گئے اور ان میں سے ایک نے فوطے دبا کر انھیں مار دیا۔ترک تاریخ دان اکرم بُغرا اِکِنچی کہتے ہیں کہ سنہ 1622 میں یہ پتا چلنے پر کہ بڑی تعداد میں ان فوجیوں کا سِرے سے وجود ہی نہیں تھا جن کی تنخواہ ہر تین ماہ بعد بانٹنے کے لیے افسروں کو دی جاتی تھی، سلطان عثمان دوم نے اصلاحات کا سوچا تو فوج نے بغاوت کر دی۔فوج نے بغاوت کرتے ہوئے وزیر اعظم اور صدر خواجہ سرا کو قتل کر کے سلطان کے چچا اور سابق سلطان مصطفیٰ کو تخت پر بٹھا دیا اور پھر ان (عثمان) کی جان لے لی۔عثمانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی سلطان کو بغاوت کے ذریعے معزول کر کے قتل کیا گیا۔ مگر اس سے بھی زیادہ یہ اہم بات تھی کہ بغاوت کرنے والے ان کے خاص محافظ تھے۔یہ محافظ ینی چری تھے۔ ترکی زبان کی اس اصطلاح کا مطلب ہے نئی فوج۔ اردو میں انھیں جان نثار کہا گیا اور انگریزی میں جانیساریز (Janissarie)۔یہ نام اس باقاعدہ پیادہ فوج کو دیا گیا تھا جسے 14ویں صدی میں عثمانی ترکوں نے تشکیل دیا تھا۔اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے مطابق اس فوجی دستے کی ترتیب و نظام کی ابتدا عثمانی سلطنت کے بانی سلطان عثمان کے بیٹے سلطان اورخان (اورحان) کے زمانے سنہ 1326 سے ہوئی۔ اس کی تنظیم میں ان کے بھائی اور وزیر علا الدین اور شیخ ادب علی کے برادرِ نسبتی قرہ خلیل چدرلی (جندرلی) شریک تھے۔

ینی چری شروع میں ماہر تیر اندازوں کا دستہ تھا۔ لیکن 1440 کی دہائی میں بارود کی دستیابی پر انھوں نے دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج کے طور پر اس کا استعمال کیا۔ سپہ سالار ینی چری آغاسی کہلاتا تھا۔وہ محکمہ پولیس کا بھی افسر اعلیٰ ہوتا تھا اور پائے تخت میں نظم و نسق قائم رکھنے کا ذمہ دار بھی۔’جدید مشرق وسطیٰ کی تاریخ‘ میں لکھا ہے کہ 15ویں اور 16ویں صدی میں انھیں یورپ بھر میں بہترین تربیت یافتہ اور موثر ترین فوجی یونٹوں میں سے ایک تسلیم کیا گیا۔ان کی وفاداری کو یقینی بنانے کے لیے انھیں ریاست کے باقی شہریوں سے الگ رکھا جاتا تھا۔ شادی کی اجازت 40 سال کی عمر کے بعد ملتی۔ یہ صرف مونچھیں رکھ سکتے تھے، داڑھی نہیں۔ینی چریوں کو سزا (سزائے قید، تلوؤں پر ڈنڈے مارنا اور سزائے موت) صرف ان کے اپنے افسر ہی دیا کرتے تھے۔ سزائے موت رات کو خفیہ طور پر دی جاتی۔ لاش کے پاؤں میں ایک توپ کا گولا باندھ کر اسے آبنائے باسفورس میں پھینک دیا جاتا تھا اور ایک توپ کا گولا چھوڑ کر اعلان کیا جاتا کہ حکمِ سزا کی تعمیل کر دی گئی ہے۔خالد تھتھال کی تحقیق ہے کہ انھیں ہر تین ماہ بعد باقاعدگی سے نقد تنخواہیں دی جاتی تھیں۔’تنخواہوں کی ادائیگی کے وقت سلطان خود ینی چری کے لباس میں چھاؤنی آتے اور خود بھی قطار میں لگ کر تنخواہ وصول کرتے تھے۔ جنگ میں ینی چری دستوں کی قیادت ہمیشہ سلطان خود کرتے۔‘’1402 میں امیر تیمور نے عثمانی سلطنت کے ماتحت قبائل کو ساتھ ملا کر جب بایزید اول کو جنگ انقرہ میں شکست دے کر انھیں زندہ گرفتار کیا تو یہ تب ہی ممکن ہوا تھا جب ینی چری کا دستہ ختم ہو چکا تھا۔‘جیسے جیسے ینی چری اپنی اہمیت سے واقف ہوتے گئے، وہ ایک بہتر زندگی کی خواہش کرنے لگے۔ سنہ 1481 میں سلطان محمد ثانی کی دوبارہ تخت نشینی کے موقع پر ینی چریوں کی شورش کو بڑی سختی سے کچل دیا گیا تھا۔سلطان کی تخت نشینی کے وقت جو بخشیش فوج میں تقسیم کی جاتی تھی اس کے مطالبے کی آڑ میں فوجی بغاوتیں بکثرت ہونے لگیں۔ینی چریوں نے پہلی بغاوت تنخواہوں میں اضافے کے لیے 1449 میں کی جس میں ان کے مطالبات تسلیم کیے گئے۔اس کے بعد وہ ہر نئے سلطان سے انعامات اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے رہے۔

15ویں صدی کے اوائل تک ینی چریوں کا اثر و رسوخ اتنا تھا کہ وہ حکومت پر حاوی ہو گئے۔ وہ بغاوت کر سکتے تھے، پالیسی بنا سکتے تھے اور فوج کے ڈھانچے کو جدید بنانے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ وہ زمیندار اور تاجر بھی بن گئے۔جب چنی چری عملی طور پر سلطان سے پیسے بٹور سکتے تھے اور کاروباری اور خاندانی زندگی نے جنگی جوش کی جگہ لے لی تو 1683 میں ویانا کی دوسری جنگ کے بعد سلطنت عثمانیہ کی شمالی سرحدیں آہستہ آہستہ جنوب کی طرف سکڑنا شروع ہو گئیں۔کوئی بھی سلطان جس نے ان کی حیثیت یا طاقت کو کم کرنے کی کوشش کی اسے یا تو فوراً مار دیا گیا یا معزول کر دیا گیا۔سلطنت عثمانیہ کی پوری تاریخ میں کئی ینی چری بغاوتیں ہوئیں۔سلطان عثمان ثانی کے قتل کے بعد ینی چری سیاست میں دخیل ہو گئے۔ سلاطین ان سے دہشت زدہ رہنے لگے اور وزرائے اعظم کا تقرر و معزولی ان کے ہاتھوں میں آگیا۔ وہ فتنہ پردازوں کے آلہ کار بن گئے۔

Check Also

مجھے بچپن میں کئی سال تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنا یا گیا، معروف اداکار عدیل ہاشمی کا انکشاف

Share معروف اداکار عدیل ہاشمی نے پہلی مرتبہ اپنے بچپن کے ایک انتہائی تکلیف دہ …