بےنامی،ٹیکس چوری اور ناجائز ذرائع سے چھپائی دولت ضبط کرنے کے لئے نامی ایکٹ 2017 ءنافذ

Share

حکومت پاکستان موجودہ معاشی بحران پر قابو پانے کے لئے نے ٹیکس چوری، کرپشن اور مالی فراڈ میں ملوث افراد سے چھپائی گئی دولت باہر لانے کے لیے نامی ایکٹ 2017ء کو لاگو کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اس قانون کے تحت مالی فراڈ اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد کے گرد گھیرا تنگ کیاجائے گا، وفاقی حکومت نے اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس سے تعاون حاصل کر لیا ہے، بے نامی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے لیے عدالتوں کو خصوصی اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت قانون نے خصوصی پاکستان نے 6 سال کے وقفے کے بعد بے نامی ٹرانزیکشن سے متعلق قوانین نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جنوری 2017 میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون مختلف وجوہات کی بنا پر اب تک نافذ نہیں ہو سکا تھا۔قانونی ماہرین بے نامی ٹرانزیکشن پروہیبیٹیشن ایکٹ کے نفاذ کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہےعام طور پر بے نامی اکاؤنٹس یا جائیداد کا مقصد کسی شخص کا شناخت صیغہ راز میں رکھ کر دوسرے شخص کے نام پر اکاؤنٹ یا جائیداد رکھنا ہے جس کا فائدہ پہلے شخص کو ہی حاصل ہوتا رہتا ہے۔عام طور پر بااثر اور دولت مند افراد اپنی جائیدادیں یا اکاؤنٹس اپنے نوکروں، ان کے بچوں یا پھر کسی ایسے افراد کے ناموں پر رکھتے ہیں جو ان کے زیر اثر ہو اور اس کا فائدہ مسلسل وہ خود اٹھاتے رہیں۔ اس کا بڑا مقصد عموماً ٹیکس بچانا ہوتا ہے۔یہ قانون ان منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس اور اثاثوں کے خلاف بنایا گیا ہے جو عام طور پر حکومت کی نظروں سے چھپنے یا ٹیکس بچانے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ لیکن اس کا ایک اور مقصد غیر قانونی طور پر ہتھیائی گئی دولت کرپشن اور بھتے وغیرہ کی رقوم کو چھپانا ہے۔حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد حکومتی محصولات میں اضافہ کرنے سے زیادہ کرپشن کی رقوم کو چھپانے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ یہ عمل معیشت کو دستاویزی بنانے کے راستے میں ایک سنگ میل عبور کرنے کے مترادف ہے۔معاشی ماہرین ملک میں بے نامی اکاوٹنس اور جائیدادوں روک تھام میں اس قانون کی اہمیت اور نفاذ کو سراہتے نظر آتے ہیں۔ لیکن کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کو دستاویزی بنانے میں ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے اور بے نامی اکاؤنٹس یا جائیدادیں بنانے سے روکنا اس عمل کی صرف ایک کڑی ہے۔کئی ہزار ارب روپے کی رشوت، بھتہ اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی دولت جائیدادوں کی خرید و فروخت میں لگی ہوئی ہے۔ اگر یہ کالا دھن ختم کر دیا جائے تو ملک کی ٹیکس کلیکشن چار ہزار ارب سے بڑھ کر باآسانی نو ہزار ارب تک پہنچ سکتی ہے۔ان کے مطابق اس سلسلے میں ایف بی آر کی اصلاح کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بھی معیشت میں اصلاحات لانے اور کالے دھن کو روکنے کے لئے دباؤ کا سامنا ہے۔ اور یہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی جانب ہی پیش رفت کا حصہ ہے۔قانون کا اطلاق کیسے ہو گا؟اس قانون کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو منقولہ اور غیر منقولہ بے نامی جائیدادوں اور اکاؤنٹس رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کا اختیار مل گیا ہے۔ایسے افراد جن کی بے نامی جائیدادیں یا اکاؤنٹس موجود ہیں، انہیں پہلے مرحلے میں نوٹسز جاری کئے جائیں گے۔ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر کمشنر ان لینڈ ریونیو کو قانونی کارروائی کے بعد ایسی جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس کو ضبط کرنے کا اختیار ہو گا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی کی جا سکے گی۔اس ضمن میں اپیلوں کی سماعت کے لئے وفاقی ایپلٹ ٹریبونل بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ بے نامی اکاؤنٹس یا جائیدادوں کی نشاندہی کے لیے بھاری انعامات بھی مقرر کیے گئے ہیں۔20 لاکھ روپے سے کم کی جائیداد یا اکاؤنٹس کے نشاندہی کرنے والے کو 5 فیصد 50 لاکھ تک کی نشاندہی کرنے والے کو 4 فیصد اور اس سے اوپر کی بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی پر تین 3 کے مساوی انعام دیا جائے گا۔وفاقی کابینہ نے اس حوالے سے وزارت قانون کی سمری کی منظوری دیتے ہوئے بے نامی ایکٹ 2017 کو فعال کر دیا۔چیف جسٹس صاحبان کے نامزد کردہ نمائندوں کو خصوصی اختیارات دے دیے گئے ہیں

خصوصی رپورٹ : تمیمی

Check Also

کلاس روم میں راز ہی راز جہاں پروفیسر اپنے طالبعلموں کے اصل نام سے بھی لاعلم

Share یونیورسٹی میں استاد کا اپنے طلبہ کے نام نہ جاننا بظاہر ایک عجیب بات …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *