وکیل کو تشدد کا نشانہ بنانا ناقابل ضمانت جرم اور5سال تک سزا, پنجاب کابینہ میں بل کی منظوری

Share

پنجاب کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی نے وکلاء کے تحفظ کے بل 2022 کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت کسی وکیل کو تشدد کا نشانہ بنانا ناقابل ضمانت جرم اور5 سال تک سزا ہوگی۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق کسی بھی وکیل کے خلاف تشدد کے کیس کی تفتیش پولیس کا متعلقہ ایس پی کرے گا جبکہ کیس کا ٹرائل متعلقہ سیشن جج 3 ماہ میں مکمل کرنے کا پابند ہوگا۔ مجوزہ بل کے مطابق ایسے وکلاء جن کو جان کا خطرہ یا ان کو تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہوگی کو عدالت کے حکم پر حفاظت کے لئے پولیس فراہم کی جائیگی۔ مجوزہ بل کے تحت کسی وکیل کے خلاف بدنیتی پر مبنی کارروائی کرنے والےشخص کو کم از کم ایک لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنا ہوگا جبکہ وکیل کو اس کے موکل کی معلومات کے عدالتی حکم کے بغیر فراہم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکے گا۔

Check Also

طالبہ کو دوستوں نے نشہ آور چیز کھلا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

Share بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو میں ایک 19 سالہ طالبہ کو اس کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *