
اسرائیل کی 5 بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے آئندہ 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی حکومت گرانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کر لیا ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق
اپوزیشن رہنماؤں یائر لاپید، گادی آئزن کوٹ، نفتالی بینیٹ، ایویگڈور لیبرمین اور یائر گولان نے تل ابیب میں ملاقات کی۔ اسرائیلی اپوزیشن کے رہنماؤں نے موجودہ حکومت کو تبدیل کرنا اپنا مشترکہ اہم ترین مقصد قرار دیتے ہوئے انتخابات سے قبل ایک دوسرے کے خلاف مہم نہ چلانے کا عہد کیا۔رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اتحاد نے ووٹرز کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے، مختلف طبقات کی حمایت حاصل کرنے اور انتخابات میں اکثریت حاصل کر کے نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے 3 مشترکہ ورکنگ گروپس بنانے کا بھی فیصلہ کیاپہلا گروپ ووٹرز کی شرکت بڑھانے اور انتخابات کی شفافیت یقینی بنانے، دوسرا نئی حکومت کے بنیادی نکات، 7 اکتوبر 2023ء کے حملوں کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن اور نئے آئین کی تیاری جبکہ تیسرا میڈیا سے متعلق حکمتِ عملی اور مبینہ جھوٹی خبروں و منفی مہمات کا مقابلہ کرنے پر کام کرے گا۔عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن رہنما نئے وزیرِ اعظم کے امیدوار پر اتفاق نہیں کر سکے۔عرب میڈیا کے مطابق اپوزیشن رہنما نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے انتخابات، انتخابی دن اور اس کے بعد مکمل تعاون پر اتفاق کیا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن اتحاد 63 نشستیں حاصل کر کے اسرائیل میں نئی حکومت تشکیل دے سکتا ہے۔نیتن یاہو کا ردِ عملدوسری جانب نیتن یاہو نے اپوزیشن اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ پانچوں اپوزیشن رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔نیتن یاہو نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صرف اسٹرانگ لیکوڈ جماعت (اسرائیل میں دائیں بازو کی بڑی سیاسی جماعت) ہی انہیں روک سکتی ہےترک میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات کی مصنوعی ذہانت سے تبدیل شدہ تصویر بھی جاری کی ہے جس میں عرب جماعتوں کے رہنماؤں منصور عباس اور احمد طیبی کو بھی دکھایا گیا ہے
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved