
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ہمیں دہشت گرد قرار دیا، لیکن ہم خود دہشت گردی کا نشانہ بنے، اپنے ملک کے خلاف استعمال ہونیوالے ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دیں گے۔ایرانی صدر نے خطاب کے دوران اپنے ہاتھ میں میناب سکول پر امریکی حملے کی تصاویر عالمی برادری کو دکھائی جس کے بعد امریکی مندوب وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے ۔ایرنی صدر نے کہا کہ جنگ میں ہمارے معصوم شہریوں کو شہیدکیا گیا ، ایران خواتین اور بچوں کو شہید کیا گیا، امریکا کے خلاف جنگ میں ہم اپنے ملک کا دفاع کیا،ایران نے دفاع کا حق استعمال کیا،ہمارے سپریم لیڈر کو کسی قانونی جواز کے بغیر قتل کیا گیا، ہم نے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ،شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا،ہم دوسروں کی سلامتی کی قیمت پر اپنی سلامتی حاصل نہیں کرنا چاہتے، ایران پر حملوں میں عالمی اصولوں کا خیال نہیں رکھا گیا، امریکی حملوں میں سیکڑوں شہید شہید ہوئے اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔مسعود پزشکیان کا کہناتھا کہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی ایران کا حق ہے،ہم یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ کچھ لوگ آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کریں،ایران کو ایٹمی توانائی کی ضرورت ہے، ایٹمی بم کی نہیں، ایٹمی توانائی ہماری ترقی کا حصہ اور پُرامن مقاصد کے لیے ہے، ہمارے علاقائی مسائل خطے کے اندر ہی حل ہونے چاہئیں،اپنے ملک کے خلاف استعمال ہونیوالے ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دیں گے،عالمی برادری ایران سے متعلق دہرا معیار ختم کرے۔انہوں نے کہا کہ ہم سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے،ایران کبھی جارح ملک نہیں رہا، نہ ہی کبھی جنگ شروع کی،ایران نے ہمیشہ مذاکرات کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے،امریکا ہماری آبی گزرگاہ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، امریکا عالمی قوانین کا احترام نہیں کرتا،اسرائیل نے اسماعیل ہانیہ کو ہمارے ملک میں شہید کیا،غزہ کی صورتحال عالمی برادری کیلئے چیلنج ہے،ملکی دفاع کیلئے ہمیں کسی کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved