
ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے مطالبہ کیا ہے کہ پرامن ایٹمی تنصیبات پر حملوں کی قانونی، ادارہ جاتی اور تکنیکی زاویوں سے تحقیقات کی جائے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ساتھ ہی ایران کی اٹامک انرجی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کےسالانہ اجلاس میں شرکت سے روکنے پر ایرانی حکام نے امریکی غارت گری قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ محمد اسلامی کو آسٹریا کا ویزا جاری نہ کرکے ایران کی آواز دنیا میں پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ایرانی کی ایٹمی انرجی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال واندی نے کہا کہ ویانا میں منعقد اجلاس میں ایرانی اہلکار کو روکنا امریکا کی جانب سے دھونس جمانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایسی مثال قائم کی ہے جس سے تمام اراکین متاثر ہوں گے۔ اسی لیے سب کو اس سیاسی دباؤ اور دھونس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔آئی اے ای اے میں ایرانی مندوب رضا نجفی نے امریکی اقدام کو ایران کے حقوق اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔آئی اے ای اے کی ستر ویں جنرل کانفرنس پیر کو ویانا میں شروع ہوئی ہےجس میں ادارے کی سالانہ رپورٹ، نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوج، تکینکی تعاون اور ایٹمی تنصیبات پر حملے روکنے سے متعلق اقدامات پر بات کی جائے گی۔ایران نے باضابطہ درخواست جمع کرائی ہے کہ پرامن مقاصد کے لیے قائم ایٹمی تنصیبات پر حملوں یا ان کے خلاف دھمکیوں کو روکا جائے۔ اجلاس جمعہ تک جاری رہے گا۔محمد اسلامی کا شیلڈوڈ خطاب روکے جانے پر ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال وندی خطاب کریں گے
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved