
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کے علاوہ سب کے لیے کھلی ہے، پاکستان کی مصالحتی کوششیں ابھی ناکام نہیں ہوئیں، امریکہ سنجیدگی دکھائے، جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نئی دہلی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جاری مصالحتی کوششیں ابھی ناکام نہیں ہوئیں، پاکستان کا مشن تاحال ناکام نہیں ہوا، کچھ طاقتیں سفارتی عمل ناکام کرنا چاہتی ہیں، بھارت فیصلہ کر لے کہ اسے ہمارے ساتھ کس طرح کا تعلق رکھنا ہے، روس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات اور سٹریٹجک شراکت داری ہے، چین کی مدد کا خیرمقدم کریں گے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، ہم مذاکرات میں صرف اسی صورت میں دلچسپی رکھتے ہیں، جب دوسرا فریق سنجیدہ ہو، ٹرمپ کی نئی انتظامیہ نے 2015 کے معاہدے کو بغیر کسی وجہ کے ختم کیا، تنازع کا حل صرف مذاکرات میں ہے، اس کے علاوہ کوئی حل موجود نہیں، ایران نے اب تک احترام کی زبان استعمال کی، ہم اور بھی زبان استعمال کر سکتے تھے لیکن اختیاط کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 2015 میں امریکیوں کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی حاصل کی، امریکہ نے ایران پر بلاجواز حملہ کیا، امریکہ نے دوسری بار مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ کیا، پوری دنیا نے مذاکرات کو بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا، 2025میں دوبارہ مذاکرات شروع کیے، مذاکرات کےپانچویں دور کے درمیان حملہ کر دیا گیا۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ وہ صرف اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا ہے، آبنائے ہرمز دوست ممالک کے جہازوں کے لیے کھلی ہے، دوست ممالک کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ رکھیں، آبنائے ہرمز صرف ایران کے دشمنوں کے لیے بند ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل عالمی سطح پر عدم مساوات کی علامت بن چکی ہے، سلامتی کونسل کا نظام انصاف عالمی حکمرانی کو ظاہر نہیں کرتا، سلامتی کونسل کو فوری اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved