
یک نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون) کا تعلق دماغ کے ایک مخصوص حصے کی سرگرمی سے ہو سکتا ہے جو سانس لینے کے عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق لیٹرل پیرافیشل (pFL) نامی دماغی حصہ سانس لینے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔یہ تحقیق یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو اور یونیورسٹی آف آکلینڈ کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔حقیق میں بتایا گیا ہے کہ پی ایف ایل حصہ خاص طور پر اس وقت متحرک ہوتا ہے جب سانس تیزی یا زور سے لیا جائے جیسے کھانسی، ہنسی یا ورزش کے دوران۔تجربات کے دوران چوہوں پر کیے گئے مشاہدات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس حصے کو متحرک کرنے سے ناصرف سانس لینے کا عمل متاثر ہوا بلکہ خون کی نالیاں سکڑ گئیں، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھ گیا۔مزید برآں تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پی ایف ایل کے نیورونز سانس لینے کے انداز کو جسم کے لڑو یا بھاگو (فائٹ یا فلائٹ) ردِعمل سے جوڑ سکتے ہیں، جو دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی وضاحت کر سکتی ہے کہ بہت سے افراد ادویات کے استعمال کے باوجود ہائی بلڈ پریشر پر قابو کیوں نہیں پاتے۔اہم بات یہ ہے کہ سائنس دانوں نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار چوہوں میں پی ایف ایل حصے کو غیر فعال کرنے سے بلڈ پریشر معمول پر آ گیا، جو مستقبل میں علاج کے نئے امکانات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔یہ نتائج نیند کے دوران سانس کی بیماری سلیپ اپنیا اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق کو بھی واضح کرتے ہیں، کیونکہ کم آکسیجن کی سطح اسی دماغی حصے کو متحرک کر سکتی ہے۔اگرچہ یہ تحقیق ابھی جانوروں پر کیے گئے تجربات تک محدود ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ مستقبل میں نئے علاج، خصوصاً دماغی سرگرمی کو متاثر کیے بغیر کیروٹڈ باڈی سینسرز کو ہدف بنانے، کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved