چیٹ بوٹ کو ’ڈرگ بڈی‘ بنانے والا نوجوان منشیات کی زیادتی سے ہلاک

Share

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 18 سالہ نوجوان مبینہ طور پر منشیات کے استعمال سے متعلق رہنمائی کےلیے اے آئی چیٹ بوٹ استعمال کرنے کے بعد اوورڈوز کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔نوجوان سیم نیلسن کالج میں داخلے کی تیاری کر رہا تھا، اس کی والدہ لیلا ٹرنر اسکاٹ کے مطابق سیم نے چیٹ جی پی ٹی سے یہ سوال کیا تھا کہ نشہ آور اثر حاصل کرنے کے لیے اسے کراتوم (پودوں سے تیار کردہ درد کم کرنے والی دوا) کتنی مقدار میں استعمال کرنی چاہیے، جو امریکا میں عام طور پر اسموک شاپس اور گیس اسٹیشنز پر دستیاب ہوتی ہے۔رپورٹس کے مطابق چیٹ بوٹ نے اس سوال پر منشیات کے استعمال سے متعلق رہنمائی دینے سے انکار کیا اور نوجوان کو کسی طبی ماہر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔والدہ کے مطابق سیم کئی ماہ تک چیٹ جی پی ٹی کو ناصرف تعلیمی کاموں بلکہ منشیات سے متعلق سوالات کے لیے بھی استعمال کرتا رہا، ان کا دعویٰ ہے کہ وقت کے ساتھ چیٹ بوٹ مبینہ طور پر ان کے بیٹے کو منشیات کے استعمال اور اس کے اثرات سنبھالنے کے طریقوں پر رہنمائی دینے لگا۔لیلا ٹرنر اسکاٹ کے مطابق ایک گفتگو میں سیم نے لکھا کہ چلو مکمل نشے والی کیفیت میں جاتے ہیں، جس پر مبینہ طور پر چیٹ بوٹ نے کھانسی کے شربت کی مقدار بڑھانے کا مشورہ دیا تاکہ ہیلوسینیشنز زیادہ ہوں۔رپورٹس کے مطابق چیٹ بوٹ کی جانب سے حوصلہ افزا اور ہمدردانہ پیغامات بھی بار بار دیے جاتے رہے، جسے والدہ نے تشویشناک قرار دیا۔ایک گفتگو میں سیم نے بتایا تھا کہ وہ زیادہ مقدار میں زینیکس لینے کے ساتھ ساتھ کینابس (چرس) بھی استعمال کر رہا ہے اور اس نے پوچھا کہ آیا دونوں کو اکٹھا لینا محفوظ ہے یا نہیں، چیٹ بوٹ نے اس امتزاج کو خطرناک قرار دیا۔چند ماہ بعد سیم نے اپنی والدہ کو بتایا کہ چیٹ بوٹ سے ہونے والی گفتگو کے نتیجے میں وہ منشیات اور شراب کا عادی ہو چکا ہے، والدہ اسے فوری طور پر ایک کلینک لے گئیں جہاں ماہرین نے علاج کا مکمل منصوبہ تیار کیا، تاہم افسوسناک طور پر اگلے ہی دن سیم اپنے بیڈروم میں اوورڈوز کے باعث جان سے چلا گیا۔اوپن اے آئی نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو غیر قانونی منشیات کے استعمال سے متعلق تفصیلی رہنمائی دینے کی اجازت نہیں ہے۔اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ ماہرینِ صحت اور کلینیکل اسپیشلسٹس کی رہنمائی میں اپنے ماڈلز کو مزید بہتر بنا رہی ہے تاکہ ذہنی دباؤ یا خطرے کی علامات کو بہتر طور پر پہچانا جا سکے

Check Also

پاکستان اداروں پر 2 بڑے سائبر حملے ناکام بنائے جانے کا انکشاف

Share پاکستانی اداروں پر دو بڑے سائبر حملے ناکام بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔نیشنل …