سعودی آرامکو ملک میں ریفائنری کے بجائے پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں سرمایہ لگانے کا خواہاں ہے

حکومت ملک کی تیل اور گیس نکالنے کی کی کمپنیوں او جی ڈی سی ایل ، پی پی ایل، جی ایچ پی ایل ، ماری گیس اور دیگرغیر ملکی کمپنیاں جو ملک میں کام کر رہی ہیں وہ اپنی پیداوار کا 50 فیصد براہ راست نجی شعبے کو اور 50 فیصد ریاستی کنٹرول میں چلنے والی سوئی گیس کمپنیوں کو بیچنے کی اجازت دی جائے گی۔نیز حکومت نے نقصان کرنےوالی ڈسکوز کمپنیوں کو فوج ، ایف آئی اے اور آئی بی کے اسپورٹنگ اسٹاف کے ساتھ فوج کے حوالے کرنے کا تصور ترک کر دیا ہے۔ کافی دماغ لڑانے کے بعد اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فوج کے لوگوں کو اس معاملے سے علیحدہ رکھاجائے۔نگران وزیرتوانائی نے دی نیوز کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ اس سے قبل گیس کمپنیوں سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کے پاس 90 فیصدترجیحی بنیادوں پر خریدنے کا حق تھا اس ک بعد پرائیویٹ سیکٹر کی باری آتی تھی کہ وہ باقی ماندہ 10 فیصد خرید لے۔گیس کمپنیاں بڑے عرصے سے تیل و گیس کی تلاش پر آنے والی لاگت کوپورا نہیں کر پارہی تھین جس کے باعث گیس کی تلاش کی سرگرمیاں ماند پڑھ ہوئی تھیں۔ اس فیصلے سے ان کمپنیوں کو اپنا مالیاتی بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔پٹرولیم ڈویژن نے ٹائٹ گیس پالیسی تیار کی ہے جس کے تحت آئندہ دو سے تین سال کے دوران 500 ملین مکعب فٹ سے 1000 ملین مکعب فٹ ٹائٹ گیس تلاش کی جائے گی۔ نگران وزیر توانائی محمد علی نے دی نیوز اور جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد موضوعات پر اظہار خیا ل کیا اور بتایا کہ سعودی آرامکو ملک میں ریفائنری کے بجائے پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں سرمایہ لگانے کا خواہاں ہے ، سعودی عرب بالخصوص معدنیات، تیل اور گیس کے سیکٹر اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ سعودی عرب ریکوڈک پروجیکٹ اور زراعت میں سرمایہ کاری کریگا۔
awareinternational A Credible Source Of News
Aware International © Copyright 2026, All Rights Reserved