1000302761

وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر نے کہا ہے کہ طویل مشاورت کے بعد نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی، جبکہ آٹو سیکٹر کی برآمدات کو 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم ہارون اختر نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور آٹو انڈسٹری لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سال سے آٹو سیکٹر کے لیے پالیسیاں بنائی جا رہی تھیں، لیکن اس کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ اس مرتبہ برآمدات پر مبنی پالیسی کی تیاری کے لیے بہت محنت کی گئی ہے اور نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی برآمدات کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ہارون اختر کے مطابق نئی پالیسی کے تحت آٹو سیکٹر کی برآمدات کو موجودہ 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا، جبکہ برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والے مینوفیکچررز پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔نئی آٹو پالیسی کے نفاذ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی، جس کا فائدہ بالخصوص متوسط اور اعلیٰ آمدنی والے طبقے کو ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت کوئی بھی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی خریداروں سے گاڑی کی قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول نہیں کر سکے گی۔ہارون اختر کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر بہتر بنانے کے لیے 45 اضافی اسٹینڈرڈز شامل کیے گئے ہیں، جن کی بدولت پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کا شمار بہترین گاڑیوں میں ہوگا۔مشیر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، کیونکہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد الیکٹرک وہیکلز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے تاکہ ان گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ہارون اختر کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز پر درآمدی ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے۔ نئی آٹو پالیسی کے ذریعے گاڑیوں کے معیار میں بہتری، قیمتوں میں کمی، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔

متعلقہ ٹیگز:#Pakistan