1000300552

فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع، ترک اعلیٰ حکام کے ایرانی صدر سے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، محسن رضائی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اسلامی ملکوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی حمایت کرتا ہے۔

دوسری جانب مکہ اتحاد کے رکن ملکوں اور ایران کے ساتھ مذاکرات پر ایرانی بیان جاری کر دیا گیا۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، مکہ اتحاد کے ارکان اور ایران کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔ ایرانی حکام نے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ”چاروں ملکوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔"

مذاکرات کی میزبانی ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے کی۔

اجلاس میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالین شریک ہوئے۔ اجلاس کا مرکزی موضوع ”خطے میں امن و سلامتی“ تھا۔

اس سے قبل مکہ معاہدے میں شریک ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام ایران پہنچے، محسن رضائی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام کا استقبال کیا، پاکستان کی نمائندگی کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچے، وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایران میں موجود ہیں

ایرانی میڈیا کے مطابق سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان ایران پہنچ گئے، سعودی سی 130 طیارہ تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا ہے

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آج کے اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے دوران پیش کی گئی تھی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تجویز کا ایران کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔

ایران نے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے دورۂ تہران کو سلامتی کے نظام میں تعاون کی جانب اہم قدم قرار دے دیا۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد کے ارکان اور ایرانی قیادت کی ملاقات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، مکہ معاہدے کے ممالک کشیدگی میں کمی کی ثالثی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، مکہ معاہدے کے ممالک بحران کے سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کی حمایت کرتے ہیں، ایران سے ملاقات کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دائرہ کار میں آتی ہے

متعلقہ ٹیگز:#World