امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو برطرف کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا۔
خود ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ لوگ انہیں پیٹ ہیگسیتھ کی برطرفی کے لیے فون کر رہے ہیں۔ تاہم فی الحال ان کا پیٹ کو عہدے سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی تاریخی شکست کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں، جبکہ ایوان نمائندگان میں آئندہ ہفتے ان کے مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ بھی متوقع ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں اور متعدد ریپبلکن قانون سازوں کا خیال ہے کہ پیٹ ہیگستھ نے ایران پر حملے کے لیے صدر کو قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم جنگ کے ممکنہ نتائج اور اس سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی پیش نہیں کی۔ریپبلکن رہنماؤں کا الزام ہے کہ وزیر دفاع نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی کامیابی کے امکانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ایسے وقت میں بھی فوجی کارروائیوں میں اضافے کی حمایت جاری رکھی جب مسلسل بمباری کے باوجود ایران کے ہتھیار ڈالنے کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔اس حوالے سے امریکی ٹی وی چینل کے رپورٹر سے فون پر گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ لوگ پتہ نہیں انہیں کیوں فون کر رہے ہیں؟ ابھی وہ پیٹ کو نہیں ہٹائیں گے۔ البتہ جنوری میں جب ڈیموکریٹ کانگریس کا انتظام سنبھال لیں گے تب ممکنہ نئے وزیر دفاع کے معاملے پر بات کرنا آسان ہوگا۔ریپبلکن حلقوں کے مطابق جنگ طویل تنازع میں تبدیل ہوچکی ہے، جس نے امریکا کو مشرق وسطیٰ میں غیر معینہ مدت کے لیے الجھا دیا، مہنگائی اور عوام کے اخراجات سے متعلق بحران کو مزید سنگین کیا اور وسط مدتی انتخابات میں ووٹرز کو ریپبلکن پارٹی کے خلاف کردیا۔رپورٹ کے مطابق کینٹکی سے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے سی این این کو بتایا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے کانگریس کا اجلاس بحال ہونے پر پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ کرانے کی کوشش کریں گے۔ متعدد ریپبلکن ذرائع کو توقع ہے کہ یہ تحریک منظور ہوسکتی ہے۔اس سے پہلے ریپبلکن رکن کانگرنس ٹامس میسی نے اگلے ہفتے پیٹ ہیگسیتھ کے مواخذے کی قراردار لانے کا اعلان کیا تھا