چرچ پر مہلک حملے میں ملوث مشتبہ افراد کے شام میں سرگرم شدت پسند گروہوں سے روابط سامنے آنے کے بعد اردن کی فضائیہ نے جنوبی شام میں مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کر دیے۔
اردنی فوج کے مطابق کارروائی دمشق حکومت کے ساتھ رابطہ کاری سے کی گئی، تاہم شامی حکومت نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردن نے پیشگی رابطے کے بغیر حملے کیے، جس پر اسے تحفظات ہیں۔
شامی سول ڈیفنس کے مطابق درعا اور صویدا صوبوں کے دیہی علاقوں میں 4 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 بچوں اور 1 خاتون سمیت 7 افراد ہلاک جبکہ 3 زخمی ہودوسری جانب حملوں کے بعد شام نے اردن کے ساتھ اپنی واحد مسافر اور تجارتی سرحدی گزرگاہ نصیب بند کر دی، جس کے باعث دونوں جانب آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔
گزشتہ ہفتے اردن کے جنوبی شہر کرک میں 1 چرچ پر دہشت گرد حملے میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گئے