1000302583

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ دہشتگردی کامقابلہ کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان تھری کا معاہدہ ہو چکا تھا لیکن وزیراعلیٰ کےپی معاہدے پر تیارنہیں تھے اس لیے ہمیں اور وزیراعظم کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا،حکومت پی ٹی آئی سےبات چیت کرے، وفاق اورپی ٹی آئی کادہشتگردی پرمعاہدہ ہو جاتا ہے تو گورنر راج ختم کرنے کا کہوں گا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور دیگر جگہوں سے لوگ لاڑکانہ ہسپتال میں علاج کرانےآتےہیں،ہم نے لاڑکانہ شہر کو نیاہسپتال دینے کا فیصلہ کیا، یہ نہیں ہونا چاہیے علاج موجود ہونے کے باوجود وسائل نہ ہونے سے کوئی محروم رہے۔بلاول بھٹو کا کہناتھا کہ دنیا بھر میں معاشی بحران ہے، پاکستانی عوام کومعاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، ہم نے پورے سندھ میں صحت کے شعبے پر توجہ دی، لاڑکانہ میں ہسپتال کی سہولت زیادہ محسوس ہورہی ہے، کل ہم نے لاڑکانہ یونیورسٹی کا افتتاح کیا، سندھ حکومت 45 ارب روپے کی گرانٹ یونیورسٹیز کو دےرہی ہے، سپورٹ ملنے کے باوجود ہمارے تعلیمی اداروں کو مسائل کا سامناہے۔

ان کا کہناتھا کہ مستقبل میں تعلیمی اداروں کے ساتھ ملکر کام کرنےکی کوشش کریں گے،لاڑکانہ میں ذوالفقار بھٹو نے واٹرسپلائی،سیوریج اور ڈرینیج کے منصوبے دیئے تھے، لاڑکانہ میں واٹرسپلائی کی سہولت حکومت کی طرف سےاُس طرح نہیں،لاڑکانہ کےعوام ٹیوب ویل سےپانی حاصل کررہےہیں،پورے لاڑکانہ کو واٹرسپلائی کی سہولت دلانےکی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ شہرمیں سیوریج کانظام موجود،لیکن پرانی صلاحیت کے مطابق ہے،لاڑکانہ میں ڈرینیج کی سہولت نہیں،سیلاب میں مسائل ہیں،صاف پانی،واٹرسپلائی کےسہولت کےساتھ سیوریج کےمسائل بھی حل کرائیں گے،قمبرشہدادکوٹ کی واٹرسپلائی اور سیوریج کی سکیم جاری ہے،قمبرشہدادکوٹ کیلئے واٹرسپلائی اور سیوریج کی سکیم ایک دوسال میں مکمل ہو جائے گی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہناتھا کہ ٹرمپ صدر کے امیدوار تھے تو ان کا نعرہ تھایہ سب جنگ شروع کرتےہیں میں ختم کرتاہوں،اسرائیل نے امریکا کو ساتھ ملا کر حملہ کیا،ایران سے ردعمل آناہے، امریکا کے عوام نے جنگ کو رد کیا،امن کوووٹ دیا، جنگ کابوجھ امریکا سے لاڑکانہ تک کےعوام اُٹھا رہے ہیں،ہم نےتاریخ میں ایسامعاشی بحران نہیں دیکھا۔ ان کا کہناتھا کہ وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کے وفد کو عشائیہ کی دعوت دی تھی،وزیراعظم سےملاقات بہت مثبت رہی،ملکرحکمت عملی بنائی ہے،وزیراعظم اور ہماری کوآرڈینیشن میں بہتری آئےگی،

وزیراعظم کابینہ اجلاس مختلف صوبوں میں بلائیں گے،کاپ میٹنگ کے بعد وزیراعظم آئیں گے تو کراچی میں اُن سےملاقات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہرجگہ لوگ سیمینار سیمینارکھیل رہےہیں،ہماری سپورٹ سے3،4وفاقی بجٹ منظور ہوئے ہیں،کافی عرصے سے سندھ میں وفاق کے منصوبےنہ ہونےکےبرابرہیں،تھرکول کامنصوبہ بنارہےہیں،وفاق کی سپورٹ شامل ہے،بلوچستان سےشکایات آتی ہیں،وفاق کی جتنی سپورٹ ملنی چاہیےوہ نہیں مل رہی۔ بلاول نے کہا کہ ہرکسی سے جھگڑے کے بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے،پی ٹی آئی،مولانافضل الرحمان سمیت سب سےلڑیں گےتواسی میں مصروف رہیں گے،ہماری توجہ اختلافات پرنہیں ہونی چاہیے،عوام کیلئے ہم کیا کر سکتےہیں اس پرتوجہ ہونی چاہیے،انتخابی اصلاحات کی ہماری تجویزمانی گئی،پی ٹی آئی کاشروع سے بیانیہ ہےکہ انتخابی اصلاحات ہوں،اپوزیشن کامؤقف رہتا ہے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور رہا کیا جائے،بانی نےاپوزیشن لیڈرز کو اتھارٹی دی ہے تو وہ انتخابی اصلاحات میں نمائندگی یقینی بنائیں، سیاسی جماعتوں کوآئندہ الیکشن کیلئےانتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل ہوناچاہیے،پی ٹی آئی کمیٹی کاحصہ نہیں بنےگی توعوام کوانکی دھاندلی کی شکایات نہیں سننی چاہئیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہناتھا کہ ہماری کوشش رہتی ہےکہ پارلیمان کوفعال کیاجائے،وہاں عوام کے فیصلے ہوں،ہماری کوشش کےساتھ اپوزیشن پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،اپوزیشن کمیٹیوں،جوڈیشل کمیشن میں نہیں آئےگی توپارلیمنٹ کو کیسے کمزورکہہ سکتی ہے،پارلیمنٹ صرف حکومت کی کوتاہیوں سےکمزور نہیں،اپوزیشن کابھی ہاتھ ہے،آئیں سب ملکر انتخابی اصلاحات کمیٹی سے آغاز کرتے ہیں،الیکٹورل ریفارمز کیلئےسب کوانتخابی اصلاحات کمیٹی میں آناچاہیے،پیپلزپارٹی کبھی کسی کےمینڈیٹ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔پیپلزپارٹی کابیانیہ رہا ہے دہشتگردی ہماری ریڈلائن ہے،افغانستان میں حکومت آنےکےبعدپاکستان میں دہشتگردی میں اضافہ ہوا،دہشتگردی کےجرائم میں جوقیدی تھے انہیں بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں رہا کیا گیا،دہشتگردوں کو رہا کرنے کی سزاہم بھگت رہےہیں،وزیراعلیٰ کےپی نےعوام کے سامنے کہا وہ دہشتگردی کا مقابلہ نہیں کریں گے،وزیراعظم کی طرف سے صدر کے پاس نوٹیفکیشن آیا کہ گورنرراج مجبوری ہے، کبھی کسی کے مینڈیٹ کونقصان نہیں پہنچانا چاہوں گا، وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کے کہنے پرپی ٹی آئی سے بات کی، گورنرراج نہ لگنے کا معاہدہ طےتھا،دہشتگردی کامقابلہ کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان تھری کامعاہدہ ہوچکاتھا، وزیراعلیٰ کےپی معاہدے پر تیارنہیں تھے،ہمیں اور وزیراعظم کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا،حکومت پی ٹی آئی سےبات چیت کرے،حکومت اورپی ٹی آئی بات چیت کریں،راستہ بند نہ کریں، وفاق اور پی ٹی آئی کا دہشتگردی پر معاہدہ ہو جاتا ہے تو گورنر راج ختم کرنے کا کہوں گا۔

متعلقہ ٹیگز:#Pakistan