بھارتی ریاست اتر پردیش میں پسند کی شادی کے لیے 19 سالہ لڑکی کے موبائل فون ٹاور پر چڑھنے کا غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جہاں کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد خاندانوں کو شادی پر رضامند کیا گیا اور لڑکی کا نکاح ویڈیو کال کے ذریعے پڑھوا دیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اتر پردیش کے ضلع بہریچ کے مٹی پور علاقے کے گاؤں عشرینہ میں پیش آیا، جہاں مہک نامی لڑکی تقریباً 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئرپورٹس کے مطابق مہک کا 21 سالہ نورالدین کے ساتھ گزشتہ پانچ ماہ سے تعلق تھا، تاہم مبینہ طور پر برادری کے فرق کے باعث دونوں خاندان اس شادی کے مخالف تھے، شادی کے معاملے پر والدہ سے تلخ کلامی کے بعد مہک صبح تقریباً 6 بجے ٹاور پر چڑھ گئی اور دھمکی دی کہ اگر اسے نیچے اتارنے کی کوشش کی گئی تو وہ چھلانگ لگا دے گی۔
https://x.com/aware_official1/status/2114760486222979322
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے، پولیس اہلکاروں نے تقریباً چار گھنٹے تک لڑکی کو سمجھانے اور بحفاظت نیچے اترنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم مہک اپنے مطالبے پر قائم رہپولیس کے مطابق نورالدین دو ماہ قبل روزگار کے سلسلے میں ممبئی منتقل ہوچکا تھا، جس کے باعث معاملے کو حل کرنے میں مشکلات پیش آئیں، بعد ازاں پولیس نے دونوں خاندانوں سے مذاکرات کیے اور انہیں شادی پر رضامند کرلیا۔
اس کے بعد ایک مقامی قاضی کو موقع پر بلایا گیا، جس نے ممبئی میں موجود نورالدین سے ویڈیو کال کے ذریعے رابطہ کیا، نورالدین کی رضامندی اور گواہوں کی موجودگی میں مہک کا نکاح ٹاور پر ہی آن لائن پڑھایا گیا، جبکہ نکاح نامے پر دستخط کی کارروائی بھی مکمل کی گئنکاح کے بعد خواتین پولیس اہلکاروں نے احتیاط کے ساتھ مہک کو ٹاور سے نیچے اتار لیا، جس کے بعد کئی گھنٹوں سے جاری کشیدہ صورتحال بحفاظت اختتام پذیر ہوگئی۔