
چین کی میزبانی میں کئی دنوں کے مذاکرات کے بعد دونوں علاقائی طاقتوں ایران اور سعودی عرب نے سفارتی تعلقات بحال کرنے اور دو ماہ کے اندر اپنے سفارت خانے کھولنے پر اتفاق کیا ہے ، اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے جاری کردہ بیانات پر دنیا کے مختلف ممالک کا مثبت رد عمل سامنے آیا ہے اور تمام ممالک نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے وزیر خارجہ وانگ ژی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی موجودہ ہنگامہ خیز دنیا میں بڑی خوشخبری اور امن کی فتح ہے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے واشنگٹن کو ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے اپنی بات چیت سے آگاہ کیا لیکن امریکا براہ راست اس میں شامل نہیں تھا۔عراق جس نے 2021 سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحتی مذاکرات کے کئی دور کی میزبانی کی ، نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا اور عراقی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک نیا باب کھل گیا ہے۔متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشیر انور گرگاش نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اس کی کامیابی میں چین کے کردار کو سراہا، انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ متحدہ عرب امارات اچھی ہمسائیگی کے تصورات کو مستحکم کرنے اور سب کے لیے زیادہ مستحکم مستقبل کی تعمیر کے لیے مشترکہ بنیاد سے آغاز کرنے کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان مثبت رابطے اور مکالمے کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے۔مصر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ قاہرہ کو امید ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگالبنان کے طاقتور مسلح گروپ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے کہا کہ اس کے حمایتی ایران اور دیرینہ حریف سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی ایک اچھی پیش رفت ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ فون کال میں معاہدے کا خیرمقدم کیا۔یاد رہے کہ ایران اور سعودی عرب نے سات سال کی کشیدگی کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں استحکام اور سلامتی کو لاحق خطرات ٹل گئے ہیں