
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی سیدھی ٹانگ پر پلاستر ہے یا الٹی ٹانگ پر، حکومت تحمل سے کام لے رہی ہے، ہمیں کوئی جلدی نہیں،اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان گھر پر تھے اور شبلی فراز لکھ کر دے رہے ہیں کہ وہ گھر پر نہیں، کچھ دیر بعد عمران خان وہیں سے نکل کر تقریرکرتے ہیں، ان کے سپورٹرز کو پتا لگ رہا ہےکہ عمران خان بزدل آدمی ہے، آپ گرفتار بھی ہوں گے، ہمیں آپ کی گرفتاری کی کوئی جلدی نہیں۔ عمران خان کو سلیکٹیو انصاف اور ٹریٹمنٹ دی گئی، عمران خان اور اہلخانہ کی کرپشن کی داستانیں ہیں، اگرسلیکٹیو انصاف دیا گیا تو جو کچھ بچ گیا ہے وہ بھی نہیں رہےگا، اب تو ثاقب نثار نے بھی کہہ دیا کہ ہم نے 100 فیصد صادق و امین نہیں کہا تھا، میں نے پہلی بار سنا ہے کہ 50 فیصد اور 75 فیصد بھی صادق و امین ہوتا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ عمران خان آرمی چیف سے ملاقات کے لیے ترلےکر رہے ہیں، پہلے جنرل (ر) باجوہ کی تعریف کرتے تھے، آج کورٹ مارشل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔عمران خان کی سیاست کو جب تک اسٹیبلشمنٹ کا وینٹی لیٹر نہ لگا ہو ان کی سیاست کی کوئی حیثیت نہیں، عمران خان نے بغیر اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی کے ایک لمحہ سیاست نہیں کی، اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کے بغیر ایک قدم نہیں اٹھایا