ایک ارب سے زائد کہکشاؤں پر مشتمل کائنات کاسب سے بڑا نقشہ جاری

Share

کائنات کے نئے نقشے میں کہکشاؤں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہوگئی ہے۔اس نقشے کا مقصد ماہرین فلکیات کے کائنات کے متعلق فہم کو مزید بہتر بنانے میں مدد لینا ہے جس سے بعد ازاں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی پُر اسرار خصوصیات کے متعلق گتھیوں کو حل کرنے میں مدد مل سکے گی۔انتہائی فاصلے پر موجود اور انتہائی دھندلی کہکشاؤں کے نقشے کا بنایا جانا کائنات کی بہتر سمجھ کی کوشش کو بہتر بناتا ہے اسی لیے ڈارک انرجی اسپیکٹرو اسکوپک انسٹرومنٹ (DESI) کی جانب سے جاری کیا جانے والا دسواں ڈیٹا اتنا اہم ہے۔بنیادی طور پر ماہرین فلکیات گزشتہ 12 ارب سالوں کے کائنات کے پھیلنے کی تاریخ کی نقشہ سازی کرنا چاہتے ہیں۔DESI سروے ان تین میں سے ایک سروے ہے جس میں امریکی ریاست ایریزونا میں قائم کِٹ پیک نیشنل آبزرویٹری میں اور چلی میں قائم سیرو ٹولولو انٹر امیریکن آبزرویٹری کی ٹیلی اسکوپس کا استعمال کرتے ہوئے شمالی ہیمسفیئر کے آسمان کی 14 ہزار مربع ڈگری کی تصویر کشی کی ہے۔اس نقشہ سازی کا ایک اہم مقصد پانچ سالہ ڈیسی اسپیکٹرو اسکوپک سروے کے لیے اندازاً چار کروڑ کہکشاؤں کی شناخت کرنا ہے تاکہ پُر اسرار ڈارک انرجی کی سمجھ میں بہتری کے لیے مدد حاصل کی جاسکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar