
ملک پر گردشی قرضوں سے شہریوں کے اندھیروں کا منصوبہ تیار کرلیا گیا، شدید گرمیوں میں 12سے14گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ آئندہ دو ماہ پن بجلی کی پیداواری صلاحیت 30 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ ملک بھر میں 12 سے زائد پاور پلانٹ فنی خرابی کے باعث بند پڑے ہیں جبکہ موسم گرما میں لوڈشیڈنگ میں تشویشناک حد تک اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، ہائیڈل اور تھرمل بجلی کی پیداوار کم ترین سطح پر رہنے کا امکان ہے، معاشی بدحالی کے باعث تھرمل پلانٹ مکمل صلاحیت سے کام نہیں کرسکیں گے۔پاور سیکٹر ذرائع کے مطابق پی ایس او گردشی قرضے کے باعث مطلوبہ مقدار میں فرنس آئل اور ایل این جی درآمد کرنے میں ناکام رہا، مارچ، اپریل میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچے کا خدشہ ہے، مئی سے جولائی تک شارٹ فال ساڑھے 7 ہزار سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے۔ مارچ، اپریل میں ڈیمز سے پانی کا اخراج بھی انتہائی کم رہے گا، تربیلا سے پانی کا اخراج 20 ہزار اور منگلا سے 15 ہزار کیوسک ہونے کا امکان ہے جبکہ آئندہ دو ماہ پن بجلی کی پیداواری صلاحیت 30 فیصد تک رہنے کا امکان ہے ،ایل این جی پاور پلانٹس کو ایندھن کی 50 فیصد فراہمی نہیں ہو پائے گی۔جسکی وجہ اگلے ماہ سے ہی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بتدریج بڑھ جائے گا.